قبضہ مافیا کا باب ہمیشہ کیلئے بند، نجی اراضی پر قبضے کا فیصلہ 90 دن میں ہوگا، ڈِسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ
پنجاب میں قبضہ مافیا کا خاتمہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں قبضہ مافیا کے عمل کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا عزم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چھ روز میں قلعہ تعمیر کرنے والا شخص جو اشاروں کی زبان میں انگریزوں کے خلاف فوج کی قیادت کرتا تھا
نئے قانون کی منظوری
وزیراعلیٰ مریم نواز نے عوام کی ملکیت ہتھیانے والوں کے خلاف کاروائی کے لیے پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ ایموایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025ء کی منظوری دی ہے۔ اراضی پر قبضہ چھڑانے کے لیے، جو لوگ عدالتوں کے چکر لگا رہے تھے، ان کے لیے ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلر گولڈبرگ تین دہائیوں کے شاندار کیریئر کے بعد ریسلنگ سے ریٹائر ہو گئے۔
ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیاں
پنجاب میں ہر قبضہ کیس کا فیصلہ ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی کے ذریعے صرف 90 دن کے اندر ہوگا۔ کمیٹی کے فیصلے کی اپیل ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں بنائی گئی خصوصی ٹربیونل سنے گی، جو اپیل کا فیصلہ بھی 90 دن کے اندر کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، چینی کے بحران پر بریفنگ، سخت سوالات کی بوچھاڑ، کہاں ہیں شوگر ملز مالکان کی تفصیلات۔۔۔؟
اجلاس کی تفصیلات
وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں نئے آرڈیننس کے تحت ہر ضلع میں ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس نئے نظام کے مطابق، عدالت جانے سے پہلے ہی نجی جائیداد پر قبضے کے مسائل حل کیے جائیں گے۔ یہ کمیٹیاں 90 دن کے اندر ہر قبضہ کیس کا فیصلہ کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی: شناختی کارڈ پر خون کے گروپ درج کرنے کے متعلق قرارداد منظور
فوری کاروائی کے احکامات
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ 30 دن کے اندر ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹیاں فعال ہو جائیں گی اور قبضہ مافیا سے زمین واگزار کرانے کے حوالے سے ان کی کاروائی 24 گھنٹے کے اندر مکمل ہوگی۔ عوامی ملکیت کی حفاظت کے لیے پیرا فورس کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
وزیراعلیٰ کا عزم
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں اب کوئی بھی کسی کی زمین نہیں چھینے گا۔ "ماں جیسی ریاست" ہر کمزور کے ساتھ کھڑی ہے، اور ملکیت کا حق صرف اسی کا ہے جس کی زمین ہے۔ قبضہ مافیا کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے، کیونکہ عام آدمی کے لیے اس کی چھوٹی سی جائیداد بھی بہت اہم ہوتی ہے۔








