شاہ محمود قریشی کئی برسوں سے پتّے کی پتھری کے مرض میں مبتلا ہیں، اب اُن کی حالت ایسی ہے کہ آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے، مہربان وقریشی
شاہ محمود قریشی کی صحت کی صورتحال
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو قریشی کا کہنا ہے کہ میرے والد شاہ محمود قریشی اس وقت پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ میں زیرِ علاج ہیں۔ وہ کئی برسوں سے پتّے کی پتھری کے مرض میں مبتلا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں اضافے کے بعد پاکستان میں پیٹرول کتنا مہنگا ہونے کا امکان ہے؟ پریشان کن خبر
پتھری کی بیماری اور علاج کی عدم دستیابی
سال 2023 میں اڈیالہ جیل میں قید کے دوران، اُن کی حالت بگڑنے پر ڈاکٹروں نے فوری آپریشن کا مشورہ دیا تھا، تاہم انہوں نے اُس وقت تنہائی میں قید ہونے کی وجہ سے کسی بھی قسم کے علاج یا سرجری سے انکار کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کو درپیش بہت سے مسائل کا حل تہذیبی اور ثقافتی سفارت کاری میں مضمر ہے: مجیب الرحمان شامی
آپریشن کی ضرورت اور انتظار
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا اب اُن کی حالت ایسی ہے کہ آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے۔ ہم اس وقت ڈاکٹروں کی حتمی رپورٹ اور سرجری کی تاریخ کے منتظر ہیں۔ اُن کے تمام بنیادی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، بالخصوص اس لیے کہ رواں سال کے آغاز میں وہ کوٹ لکھپت جیل میں دل کے عارضے کا شکار بھی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات کی تفصیل جاری، کتنے افراد لقمۂ اجل بنے؟ جانیے
پی ٹی آئی رہنماؤں کی صحت کے مسائل
یہ بات انتہائی دردناک ہے کہ میرے والد صاحب کی طرح پاکستان تحریکِ انصاف کے ہر اُس رہنما اور کارکن نے، جو گزشتہ ایک سال کے دوران ناجائز قید و بند کی صعوبتوں سے گزرا ہے، اپنی صحت پر سنگین اثرات برداشت کیے ہیں۔ ان غیر انسانی اور غیر منصفانہ حالات نے بہت سے رہنماؤں اور کارکنوں کو شدید جسمانی و ذہنی اذیت میں مبتلا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیب نے بیڑا غرق کر دیا، ڈرنے والا افسر اپنا تبادلہ کرا لے: اسلام آباد ہائیکورٹ
دیگر متاثرہ رہنما
مہر بانو قریشی نے مزید کہا ان میں نمایاں طور پر ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، عمر چیمہ اور سینیٹر اعجاز چوہدری شامل ہیں جو اب بھی ان مظالم کے اثرات سے لڑ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے کئی کارکنان نے قید کے دوران اپنی جانیں بھی گنوا دیں۔
دعاؤں کی اپیل
میں تمام اہلِ وطن سے درخواست کرتی ہوں کہ میرے والد، عمران خان صاحب، بشریٰ بی بی، اور ہر اس قیدی رہنما و کارکن کے لیے دعا کریں جو ظلم، قید و تنہائی کے باوجود اپنے نظریے اور ایمان پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کی ثابت قدمی اور قربانیاں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ سچائی اور اصولوں پر قائم رہنے کی قیمت بہت بڑی ہے — مگر حوصلہ اس سے بھی بڑا۔
My father, Shah Mahmood Qureshi, has been admitted to PKLI. He has lived with gallbladder stones for years, and in 2023, while incarcerated in Adiala Jail, doctors had advised surgery after his condition deteriorated. He chose not to undergo any procedures then unwilling to do so…
— Meher Bano Qureshi (@MeherBanoQ) October 31, 2025








