صاحب کے ساتھ ڈیوٹی کرتے نہ تو ہمارے کان ہیں، نہ آنکھیں اور نہ ہی زبان
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 336
نہ تو ہمارے کان ہیں، نہ آنکھیں اور نہ ہی زبان؛ ایک دن ہمیں ڈاکٹر طاہر القادری سے ملنے ان کے گھر ماڈل ٹاؤن ایکسٹنشن جانا تھا۔ میں ماڈل ٹاؤن رہتا تھا لہٰذا میں نے سیانا بنتے سٹاف کے ایک ڈرائیور اورنگ زیب سے کہا؛ "اورنگ زیب! ہم اس راستے سے جائیں گے۔" وہ کہنے لگا؛ "سر! ایک بات یاد رکھیں۔ راستہ وہی لینا ہے جو پولیس اسکاٹ بتائے۔ دوسری ایک اور گر کی بات بتا دوں؛ "صاحب کے ساتھ ڈیوٹی کرتے نہ تو ہمارے کان ہیں، نہ آنکھیں اور نہ ہی زبان۔" میں نے سیانت کی یہ باتیں ہمیشہ کے لئے پلے باندھ لی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: امید ہے پاک بھارت جنگ بندی دیرپا ہوگی: پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل
طاہر القادری کا گھر
طاہر القادری صاحب کا گھر کسی مو رچے سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے ملاقات میں صاحب کو اپنا ترجمہ کیا ہوا قرآن پاک کا نسخہ تحفہ میں دیا۔ ان کی علمیت کا میں مداح ہوں لیکن سیاست اور کردار کا ناقد۔
یہ بھی پڑھیں: جونیئر جناح ٹرسٹ کا برما ٹاؤن میں “زیرو آؤٹ آف اسکول چلڈرن” ماڈل پراجیکٹ کا آغاز، پہلے مرحلے میں 360 بچوں کی انرولمنٹ
کھانا اور گن مین
سر! کھانا کھا ہی رہا تھا؛ سرکاری گن مین اکرم قصور کا رہنے والا زندہ دل، ہنس مکھ، ٹائپکل پولیس والا اور کھانے پینے کا شوقین تھا۔ صاحب نے کسی شادی بیاہ یا اور فنکشن پر جانا ہوتا تو کھانے کے وقت صاحب کا حکم تھا کہ "ڈرائیور اور گن مین کو کھانے کے لیے بلا نا میری ذمہ داری ہو گی" جس میں کبھی بھی کوتاہی نہیں ہوئی تھی۔ ما شاء اللہ اکرم خوب سیر ہو کر کھاتا اور کبھی میں اس سے پوچھتا؛ "اکرم کھا نا کھایا" تو جواب ہمیشہ یہی ہوتا؛ "سر! کھا ہی رہا تھا کہ آپ نے بلا لیا۔" ہم سب خوب ہنس دیتے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے
وائرلیس آپریٹرز
جاوید وائرلیس آپریٹر تھا۔ یہ میرا پیر بھائی یعنی صوفی برکت علیؒ صاحب کا مرید تھا۔ شریف اور ذمہ دار۔ آج کل برکی تھانے میں انوسٹیگیشن کا انچارج ہے۔ بعد میں اچھرہ لاہور کا رہنے والا حوالدار محمد عارف بھی بطور وائرلیس آپریٹر جوائن کیا۔ اب یہ دونوں باری باری ڈیوٹی انجام دیتے تھے۔ یہ بھی ہنس مکھ نوجوان تھا۔ دونوں کو میں "برخودار وائرلیس آپریٹر" کہہ کر بلاتا تھا اور آج بھی اسی نام سے پکارتا ہوں۔ عارف تو ما شاء اللہ اب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی پا کر "قربان کنٹرول" (یہ لاہور پولیس کا مرکزی وائرلیس کنٹرول ہے۔) کا انچارج ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، اندرون و بیرون ملک 300 پروازیں متاثر
وزیر بزدار کے ساتھ
صاحب جب بزدار حکومت میں وزیر تھے تو ان کے ساتھ والٹن روڈ لاہور کا رہائشی حوالدار انعام اللہ بھی بطور وائرلیس آپریٹر ڈیوٹی کرتا رہا تھا۔ یہ بھی سلجھا ہوا اور خوش لباس نوجوان تھا۔ صاحب کا سرکاری ڈرائیور ارشد بھی ہمارا ہی بھرتی کیا ہوا تھا۔ ہنس مکھ اور سلجھا ہوا عمدہ ڈرائیور۔ ان سب سے آج بھی رابطہ ہے۔
چوہدری پرویز الٰہی کی اہمیت
چوہدری پرویز الٰہی کی ساری اہم سرکاری یا پارٹی assignment صاحب ہی انجام دیتے تھے۔ ایم پی ایز فنڈز ہو، پارلیمانی سیکرٹریوں کو محکمے الاٹ کرنے ہوں، کسی اہم معاملے کی ٹاسک فورس کا قیام ہو، صوبے میں لاء اینڈ آرڈرز کا معاملہ ہو، اسمبلی کی کارروائی ہو، قانون سازی کے معاملات ہوں یا پارٹی کی تنظیم سازی کے، صاحب کی حیثیت کلیدی تھی۔ اہم مشاورت کے لئے یار غار بھی صاحب ہی تھے۔
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








