پاکستان، سعودی عرب اقتصادی شراکت کا نیا دور
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد عقیدت، اعتماد اور باہمی احترام پر قائم ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سے دونوں ممالک کے درمیان اخوت اور دوستی کے رشتے مضبوط ہوتے گئے۔ حرمین شریفین کے روحانی تعلق نے ان رشتوں کو مزید گہرائی بخشی۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلق مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی سے بڑھ کر اقتصادی، دفاعی اور سفارتی تعاون تک پھیل گیا۔ پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کے تحفظ کو اپنا فرض سمجھا، جبکہ سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ یہ تاریخی پس منظر آج دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے اقتصادی باب کی بنیاد رکھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سے شارجہ جانے والے مسافر سے 670 گرام ہیروئن بھرے کیپسولز برآمد
نئے اقتصادی فریم ورک کا آغاز
حالیہ دنوں میں پاکستان اور سعودی عرب نے اقتصادی تعاون کے ایک نئے فریم ورک کے آغاز پر اتفاق کیا ہے، جسے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں ایک نئے دور کی شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔ ریاض میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں اس تاریخی پیش رفت کا اعلان کیا گیا۔ اس فریم ورک کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف دوبارہ سیاسی مکالمے کے حق میں، عمران خان سے اڈیالہ جا کر ملنے کو بھی تیار، بڑا دعویٰ سامنے آگیا
ترجیحات اور اہداف
اعلامیہ کے مطابق اس نئے فریم ورک کے تحت توانائی، صنعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ یہ وہ شعبے ہیں جو نہ صرف دونوں ممالک کی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ ان میں سرمایہ کاری سے خطے کی مجموعی اقتصادی صورتحال پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف نے بلال بن ثاقب کو معاون خصوصی مقرر کردیا
طویل المدتی منصوبے
سعودی ولی عہد اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں یہ طے پایا کہ آئندہ دونوں ممالک اپنی اقتصادی حکمتِ عملیوں کو ہم آہنگ کرتے ہوئے طویل المدتی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے فریم ورک کو فعال بنائیں گے۔ سعودی کابینہ نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا مسیحی ملازمین کو دسمبر کی تنخواہ اور پنشن ایڈوانس ادا کرنے کا اعلان
کابینہ کے اجلاس میں تعریف
ریاض میں ہونے والے اجلاس میں کابینہ ارکان نے اس فریم ورک کو دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوششوں کی توسیع قرار دیا۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف پائیدار اقتصادی تعلقات کو فروغ دے گا بلکہ ایک جامع شراکت داری کے قیام کی جانب بھی اہم قدم ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: معروف ترین ریلیشن شپ کوچ سعدیہ خان کا ارب پتی غیر مرد کے ساتھ تعلقات کا انکشاف
تجارت اور سرمایہ کاری کی سمت
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان کی اجلاس میں پاکستانیوں کے ساتھ تعلقات کو عالمی اقتصادی نظام کے تناظر میں ایک اسٹریٹجک موقع قرار دیا گیا۔ سعودی وزرا نے کہا کہ پاکستان جیسے ابھرتے ہوئے ملک کے ساتھ اشتراک سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے۔ سعودی عرب اس وژن کے تحت اپنی معیشت کو متنوع بنیادوں پر استوار کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی چینلز پاکستان میں ایک قیدی کی بات کرنے کے بجائے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دیں، انجینئر امیر مقام
معاشی بلاک کی تشکیل
سعودی ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر علی الحازمی نے کہا کہ یہ فریم ورک دونوں ممالک کی دیرینہ شراکت داری کی جڑوں سے ابھرا ہے اور ترقی، سرمایہ کاری اور استحکام کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہ محض ایک رسمی معاہدہ نہیں بلکہ ایک عملی اور طویل المدتی منصوبہ ہے جو مشترکہ مفادات پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11 کے لیے پلیئرز آکشن مکمل
خصوصی اہمیت کے شعبے
دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک مربوط نظام وضع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت سرمایہ کاروں کو سہولتیں اور شفاف مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے برعکس پاکستان میں بھی سعودی کمپنیوں کی موجودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جیسے کہ توانائی، خوراک اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے۔
یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ قریشی نے ہمایوں سعید کی اصل عمر بتادی
بجلی اور قابل تجدید توانائی کے منصوبے
دونوں ممالک کے درمیان برقی رابطے کے منصوبے اور قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں مفاہمتی یادداشتیں اس اشتراک کی سمت کو واضح کر رہی ہیں۔ یہ منصوبے نہ صرف پاکستان میں بجلی کی پیداوار کے ذرائع کو متنوع بنائیں گے بلکہ خطے میں توانائی کے بہاؤ کو بھی آسان کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے نشہ کرنے کا تاثر غلط ثابت ہوا: رانا ثنا اللہ
نتیجہ
یہ فریم ورک مستقبل میں ان تعلقات کو ایک نئی جہت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سرمایہ کاری کے عمل میں شفافیت، قانونی اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کو یقینی بنانا اس شراکت داری کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر پاکستان نے ان پہلوؤں پر سنجیدگی سے عمل کیا، تو یہ فریم ورک ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
نوٹ
یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








