ترکمانستان – پاکستان دوستی زندہ باد
گول میز کانفرنس کا انعقاد
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) دی گلف آبزرور، دی گلف آبزرور ریسرچ فورم اور اسلام آباد میں ترکمانستان کے سفارت خانے نے ادارۂ فروغ قومی زبان میں گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس کا مقصد ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی 30ویں سالگرہ کی یاد منانا تھا، جو ترکمانستان کی خارجہ پالیسی کی اساس، امن، مکالمے اور باہمی تعاون کی ایک روشن علامت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین، روس، قطر اور ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی
تقریب کی ابتدا
تقریب کا آغاز ترکمانستان اور پاکستان کے قومی ترانوں سے ہوا۔ حافظ انعام الحق نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی۔ سفیرِ ترکمانستان برائے پاکستان، اتاجان مولاموف نے اپنے کلیدی خطاب میں ترکمانستان کی پالیسی غیرجانبداری کو ایک جامع سفارتی نظریئے کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے ترکمانستان کی غیرجانبداری کے تاریخی پس منظر کو بیان کیا اور کہا کہ غیرجانبداری اب ترکمانستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بن چکی ہے، جو دنیا میں تعاون، مکالمے اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے عشق آباد میں اقوام متحدہ کے ریجنل سینٹر برائے انسدادی سفارت کاری، گروپ آف فرینڈز آف نیوٹرالٹی اور انٹرنیشنل فورم آن پیس اینڈ ٹرسٹ 2025 کے قیام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے TAPI پائپ لائن جیسے منصوبوں کو اقتصادی تعاون کے ذریعے امن کو فروغ دینے کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے ترکمانستان اور پاکستان کی دوستی کو سراہتے ہوئے ’’ترکمانستان – پاکستان دوستی زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگایا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا کراچی ایئرپورٹ کے قریب چینی باشندوں پر حملے کی سخت مذمت
اقوام متحدہ کا پیغام
اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر برائے پاکستان محمد یحییٰ نے کہا کہ آج کی یہ تقریب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ غیرجانبداری، جیسا کہ ترکمانستان نے فروغ دیا، کوئی غیر فعال تصور نہیں بلکہ امن، مکالمے اور باہمی سمجھ بوجھ کا مؤثر ذریعہ ہے۔ ایسے دور میں جب دنیا میں عدم اعتماد اور تقسیم بڑھ رہی ہے، اقوام کے درمیان اعتماد سازی ہماری مشترکہ بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ اقوامِ متحدہ اپنے اس عزم پر قائم ہے کہ اصولوں کو باہمی تعاون، شمولیت اور حقیقی ترقی کے ذریعے عملی اقدامات میں بدلا جائے اور اس اعتماد کو مضبوط کریں جو امن اور انسانیت کی بنیاد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سی ایم انسپکشن ٹیموں کے ہسپتالوں کے اچانک دورے،متعدد ایم ایس اور پرنسپل تبدیل، گڈ گورننس کیلیے ایک اور اہم قدم اٹھا لیا گیا
اجلاس کی صدارت
ملک محمد شفیق، صدرِ اجلاس نے اپنے جامع اظہارِ خیال میں اتاجان مولاموف، سفیرِ ترکمانستان برائے پاکستان، محمد یحییٰ، ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر برائے پاکستان اور دیگر ممتاز مقررین کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں برسلز سے دریاسوئیسال کا ریکارڈ شدہ پیغام سنایا گیا جس میں ترکمانستان کی غیرجانبداری اور عالمی امن کے لیے کوششوں کو سراہا گیا۔ افتتاحی کلمات میں ادارہ فروغ قومی زبان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد حمید نے ترکمان عوام کے قومی رہنما قربان قلی بردی محمدوف اور سردار بردی محمدوف، صدرِ ترکمانستان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے ترکمان قیادت کی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بصیرت اور قیادت نے ملک کو پائیدار ترقی، ثقافتی احیاء اور بین الاقوامی سطح پر امن و غیرجانبداری کی بنیاد پر سفارت کاری کی راہ دکھائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ قائم، 100 انڈیکس ایک لاکھ 62 ہزار پوائنٹس کی حد بھی عبور کر گیا
شرکاء کی شرکت
نشست کی نظامت سرپرستِ اعلیٰ دی گلف آبزرور محمد علی پاشا نے کی۔ تقریب میں یسریٰ نثار، ڈاکٹر غزالہ خان، حماد حسن، ایڈیٹر اِن چیف دی گلف آبزرور فاطمۃ زہرہ، بیرسٹر زوپاش خان، ایڈووکیٹ عادل قاضی، راجہ عبدالقیوم، سینئر صحافی محمد نواز رضا، عمران یوسف، راجہ جاوید، ڈاکٹر فرحت آصف، نثار چوہدری، طاہر فاروق، سعدیہ عامر، رانا کوثر، محمد نعیم قریشی، ڈاکٹر رابعہ کیانی، صفیر شاہ، شمس عباسی پاکستان اور بیرونِ ملک سے ممتاز سفارتکاروں، ماہرین تعلیم، صحافیوں، پالیسی سازوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔
تقریب کے اختتام پر خیالات
مقررین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترکمانستان کی غیرجانبداری کی سفارتی پالیسی پر روشنی ڈالی اور ترکمانستان کی انسانی ترقی پر مبنی پالیسیوں کو پاکستان کے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے وژن کو سراہا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، ڈائریکٹر جنرل، ادارہ فروغِ قومی زبان اور شریکِ صدرِ اجلاس نے فارسی ادب اور ترکمان ثقافتی ورثے کے مابین ربط پر گفتگو کی اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اختتامی کلمات میں کہا کہ ترکمانستان اور پاکستان کے درمیان علمی، ادبی، ثقافتی ورثے کے تبادلے کی کل سے زیادہ آج ضرورت ہے۔ انھوں نے خصوصی طور پر سفیرِ ترکمانستان برائے پاکستان، اتاجان مولاموف سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ کانفرنس کے اختتام پر شرکائے تقریب میں اسناد تقسیم کی گئیں۔








