سرحد پار دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رہیں گے، وزیر دفاع
پاکستان کی سیکیورٹی حکمت عملی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان سرحد پار دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شیر شاہ میں کمپیوٹر کے کچرے سے خالص سونے کی بازیابی کیسے ہوتی ہے؟
افغان طالبان اور ان کی سرپرستی
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی پالیسیوں اور افغانستان سے متعلق جامع حکمتِ عملی پر قومی اتفاقِ رائے موجود ہے، پاکستان اور خصوصاً خیبرپختونخوا کے عوام افغان طالبان کی سرپرستی میں جاری بھارتی پراکسیز کی دہشت گردی سے بخوبی واقف ہیں اور اس بارے میں کوئی ابہام نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: India: Hindu Extremists Run Over Muslim Family, 3 Dead
افغانستان کی اندرونی صورتحال
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی غیر نمائندہ حکومت شدید اندرونی دھڑے بندی کا شکار ہے، جہاں خواتین، بچوں اور اقلیتوں پر مسلسل جبر جاری ہے جبکہ اظہارِ رائے، تعلیم اور نمائندگی کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، 4 سال گزرنے کے باوجود افغان طالبان عالمی برادری سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ابھی تک کون فیورٹ ہے ، کیا منصور علی شاہ کے آنے سے حکومت گھر چلی جائے گی ۔۔؟ منیب فاروق کھل کر بول پڑے
وزیرِ دفاع کا ٹویٹ
افغان ترجمان کی جانب سے بدنیتی پر مبنی اور گمراہ کن تبصروں پر واضح کرناچاہتاہوں کہ
افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی سیکیورٹی پالیسیوں پر تمام پاکستانیوں بشمول ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت میں مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔پاکستانی عوام بالخصوص خیبر پختونخواہ کے لوگ، افغان طالبان…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) November 1, 2025
یہ بھی پڑھیں: 41واں گورنرز کپ گالف ٹورنامنٹ اختتام پذیر، پروقار تقریب میں فاتحین کا اعلان ہوگیا
افغان طالبان کی حکمت عملی
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اپنی اندرونی تقسیم، بدامنی اور گورننس کی ناکامی چھپانے کیلئے وہ محض جوشِ خطابت، بیانیہ سازی اور بیرونی عناصر کے ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں، افغان طالبان بیرونی عناصر کی "پراکسی" کے طور پر کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی افغان پالیسی قومی مفاد، علاقائی امن اور استحکام کے حصول کیلئے ہے۔
عزمِ پاکستان
وزیرِ دفاع نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا، جھوٹے بیانات سے حقائق نہیں بدلیں گے، اعتماد کی بنیاد صرف عملی اقدامات سے قائم ہو سکتی ہے۔








