وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں مسلسل تاخیر، وجہ سامنے آگئی
تحریک عدم اعتماد کی پیش رفت
مظفرآباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں شادی شدہ خاتون کے قتل کا انکشاف، عدالت نے قبر کشائی کا حکم دے دیا
پیپلز پارٹی کی حکمت عملی
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، ذرائع کا بتانا ہے کہ پیپلز پارٹی کے قائدین نے تاحال متبادل قائد ایوان کی نامزدگی نہیں کی۔ بلاول بھٹو زرداری کی وطن واپسی پر ہی پیپلز پارٹی کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سردیوں میں گھریلو صارفین کو کتنے گھنٹے گیس ملے گی؟ شیڈول جاری
تحریک کی تاخیر کی وجوہات
ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر مسلم لیگ ن کے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ تاخیر کی وجہ ہے جبکہ آزاد کشمیر حکومت کا 80 فیصد ترقیاتی بجٹ ابھی خرچ ہونا باقی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ارشَد ندیم نے ایشین ایتھلیٹکس چمپئن شپ کا گولڈ میڈل افواج پاکستان کے نام کردیا
اسمبلی کی مدت اور انتخابات
ذرائع کے مطابق موجودہ اسمبلی کی مدت جولائی 2026 میں ختم ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کا مطالبہ ہے کہ مارچ 2026 میں انتخابات کرائے جائیں۔
اگر مسلم لیگ ن کا مطالبہ تسلیم کیا جاتا ہے تو انتخابات سے 2 ماہ قبل جنوری ہی میں نئی حکومت اختیارات سے محروم ہو جائے گی، اور دسمبر اور جنوری میں پیپلز پارٹی مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل نہیں کر پائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے توانائی شعبے پر منفی اثرات، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے بعد ایل پی جی کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
پیپلز پارٹی کا موقف
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا اسمبلی کی مدت پوری کرنے پر اصرار ڈیڈلاک کی مبینہ وجہ ہے۔
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا اتفاق
خیال رہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اتفاق کر چکی ہیں، تاہم مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ وہ آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپوزیشن بینچز پر بیٹھیں گے۔








