پاکستان کی سیکیورٹی کی ضامن مسلح افواج ہیں، یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی، ڈی جی آئی ایس پی آر
پاکستان کی سیکیورٹی کی حفاظت
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی، طالبان ہمارے سیکیورٹی اہل کاروں کے سروں کے فٹ بال بناکر کھیلتے ہیں ان سے مذاکرات کیسے ہوسکتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ورکنگ ویمن کیلئے ہاسٹل بنانے کا فیصلہ
طالبان کے ساتھ ترقی کی لڑائی
سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی طالبان کی آمد پر جشن نہیں منایا، ہماری طالبان گروپوں کے ساتھ لڑائی ہے، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی۔
یہ بھی پڑھیں: ہائیکورٹس کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگا
ڈرون کے حوالے سے وضاحت
ڈرون کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارا امریکا سے کوئی معاہدہ نہیں، ڈرون کے حوالے سے طالبان رجیم کی جانب سے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی، امریکا کے کوئی ڈرون پاکستان سے نہیں جاتے، وزارت اطلاعات نے اس کی کئی بار وضاحت بھی کی ہے، ہمارا کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہے کہ ڈرون پاکستان سے افغانستان جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ ختم نہیں ہوئی یہ صرف وقفہ ہے: ایران کا سخت انتباہ کیساتھ فوج کو فائر بندی کا حکم
دہشت گردی کی شکار پاکستان
ان کا کہنا تھا کہ طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتی ہے، استنبول میں طالبان کو واضح بتایا ہے کہ دہشت گردی آپ کو کنٹرول کرنی ہے اور یہ کیسے کرنی ہے یہ آپ کا کام ہے، یہ ہمارے لوگ تھے جب یہاں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیا یہ بھاگ کر افغانستان چلے گئے، ان کو ہمارے حوالے کردیں ہم ان کو آئین اور قانون کے مطابق ڈیل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی دفاعی اتاشی نے جنگی جہاز گرائے جانے سے متعلق اہم اعتراف کر لیا
مقامی مسائل اور معیشت
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی، جرائم پیشہ افراد اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ ہے، یہ لوگ افیون کاشت کرتے ہیں اور 18 سے 25 لاکھ روپے فی ایکڑ پیداوار حاصل کرتے ہیں، پوری آبادی ان لوگوں کے ساتھ مل جاتی ہے، وار لارڈز ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، یہ حصہ افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور وار لارڈز کو جاتا ہے، دہشت گردی، چرس، اسمگلنگ یہ سب کام یہ لوگ مل کر کرتے ہیں اور پیسے بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیپٹن (ر) ملک لیاقت علی کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی تعینات کردیا گیا
فوج کے داخلہ معاملات
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فوج کے اندر کوئی عہدہ کریئیٹ ہونا ہے تو یہ حکومت کا اختیار ہے ہمارا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کی بطور سینیٹر کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ فوج نے وادی تیرہ میں کوئی آپریشن کیا، اگر ہم آپریشن کریں گے تو بتائیں گے، ہم نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے ہیں جن میں 200 کے قریب ہمارے جوان اور افسر شہید ہوئے، ہماری چوکیوں پر جو قافلے رسد لےکر جاتے ہیں ان پر حملے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کے دوران مفت ٹرانسپورٹ کا پلان فائنل
گورنر راج اور ذمہ داریاں
گورنر راج کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ہماری نہیں وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، جو لوگ مساجد اور مدارس پر حملے کرتے ہیں ہم ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شام میں ۲۵۰۰ دہشتگرد افغانستان منتقل ہوئے، افغانستان بارڈر بند کرنے سے دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی، ڈی جی آئی ایس پی آر
استنبول کانفرنس کا موقف
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ استنبول میں جو کانفرنس ہونی ہے ہمارا موقف بالکل کلیئر ہے، دہشت گردی نہیں ہونی چاہیے، مداخلت نہیں ہونی چاہیے، افغان سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیے، سیزفائر معاہدہ ہماری طاقت سے ہوا، افغان طالبان ہمارے دوست ممالک کے پاس چلے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف حیران تھا کہ پاکستانی معیشت 14ماہ میں کیسے سنبھل گئی، وزیر خزانہ کا بیان
اخلاقیات کا درس
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی اخلاقیات نہ سکھائے اور ہم کسی کی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر منت سماجت نہیں کررہے، ہم اپنی مسلح افواج اور لوگوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کھانے کے دوران موٹاپے پر طنز کرنے اور “موٹو” کہنے والے 2 افراد پر گولیاں چل گئیں
غزہ میں فوج بھیجنے کا معاملہ
غزہ میں فوج بھیجنے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ہمارا نہیں حکومت کا معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو احتجاجی تحریک سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، رانا ثنا اللہ
سرحدی مسائل اور مقامی انتظامات
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کی سرحد 26 سو کلومیٹر طویل ہے جس میں پہاڑ اور دریا بھی شامل ہیں، ہر 25 سے 40 کلومیٹر پر ایک چوکی بنتی ہے، ہر جگہ نہیں بن سکتی، دنیا بھر میں سرحدی گارڈز دونوں طرف ہوتے ہیں، یہاں ہمیں صرف یہ اکیلے کرنا پڑتا ہے، ان کے گارڈز دہشت گردوں کو سرحد پار کرانے کے لئے ہماری فوج پر فائرنگ کرتے ہیں، ہم تو ان کا جواب دیتے ہیں۔
حکومتی فیصلے اور افہام و تفہیم
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ معرکہ حق میں حکومت پاکستان، کابینہ، فوج اور سیاسی جماعتوں نے مل کر فیصلے کیے، کے پی کے حکومت اگر دہشت گردوں سے بات چیت کا کہتی ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا اس سے کفیوژن پھیلتی ہے، طالبان ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کے سروں کے فٹ بال بناکر کھیلتے ہیں ان سے مذاکرات کیسے ہوسکتے ہیں؟








