پاکستان کی سیکیورٹی کی ضامن مسلح افواج ہیں، یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی، ڈی جی آئی ایس پی آر
پاکستان کی سیکیورٹی کی حفاظت
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی، طالبان ہمارے سیکیورٹی اہل کاروں کے سروں کے فٹ بال بناکر کھیلتے ہیں ان سے مذاکرات کیسے ہوسکتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11: گولڈ اور ڈائمنڈ کیٹیگری کے کھلاڑیوں کی ریٹینشن مکمل
طالبان کے ساتھ ترقی کی لڑائی
سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی طالبان کی آمد پر جشن نہیں منایا، ہماری طالبان گروپوں کے ساتھ لڑائی ہے، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی۔
یہ بھی پڑھیں: بچپن میں گھریلو ملازم نے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا، ماڈل و اداکارہ عینی جعفری
ڈرون کے حوالے سے وضاحت
ڈرون کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارا امریکا سے کوئی معاہدہ نہیں، ڈرون کے حوالے سے طالبان رجیم کی جانب سے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی، امریکا کے کوئی ڈرون پاکستان سے نہیں جاتے، وزارت اطلاعات نے اس کی کئی بار وضاحت بھی کی ہے، ہمارا کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہے کہ ڈرون پاکستان سے افغانستان جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ پر سپریم کورٹ کے جج کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا افسوسناک واقعہ
دہشت گردی کی شکار پاکستان
ان کا کہنا تھا کہ طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتی ہے، استنبول میں طالبان کو واضح بتایا ہے کہ دہشت گردی آپ کو کنٹرول کرنی ہے اور یہ کیسے کرنی ہے یہ آپ کا کام ہے، یہ ہمارے لوگ تھے جب یہاں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیا یہ بھاگ کر افغانستان چلے گئے، ان کو ہمارے حوالے کردیں ہم ان کو آئین اور قانون کے مطابق ڈیل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کوہستان کرپشن اسکینڈل، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اکاؤنٹنٹ جنرل کے تبادلے پر برہمی کا اظہار
مقامی مسائل اور معیشت
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی، جرائم پیشہ افراد اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ ہے، یہ لوگ افیون کاشت کرتے ہیں اور 18 سے 25 لاکھ روپے فی ایکڑ پیداوار حاصل کرتے ہیں، پوری آبادی ان لوگوں کے ساتھ مل جاتی ہے، وار لارڈز ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، یہ حصہ افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور وار لارڈز کو جاتا ہے، دہشت گردی، چرس، اسمگلنگ یہ سب کام یہ لوگ مل کر کرتے ہیں اور پیسے بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قائد اعظم کے رہنما اصول آج بھی پاکستان کا روشن مستقبل ہیں: عظمیٰ بخاری
فوج کے داخلہ معاملات
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فوج کے اندر کوئی عہدہ کریئیٹ ہونا ہے تو یہ حکومت کا اختیار ہے ہمارا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون کا نیا سپیل پاکستان میں داخل، بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارش کا امکان
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ فوج نے وادی تیرہ میں کوئی آپریشن کیا، اگر ہم آپریشن کریں گے تو بتائیں گے، ہم نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے ہیں جن میں 200 کے قریب ہمارے جوان اور افسر شہید ہوئے، ہماری چوکیوں پر جو قافلے رسد لےکر جاتے ہیں ان پر حملے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے حالات غلط پالیسیوں کی وجہ سے خراب ہوئے: علی امین گنڈا پور
گورنر راج اور ذمہ داریاں
گورنر راج کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ہماری نہیں وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، جو لوگ مساجد اور مدارس پر حملے کرتے ہیں ہم ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ۳۷ویں سالگرہ دبئی میں منائی گئی
استنبول کانفرنس کا موقف
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ استنبول میں جو کانفرنس ہونی ہے ہمارا موقف بالکل کلیئر ہے، دہشت گردی نہیں ہونی چاہیے، مداخلت نہیں ہونی چاہیے، افغان سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیے، سیزفائر معاہدہ ہماری طاقت سے ہوا، افغان طالبان ہمارے دوست ممالک کے پاس چلے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف ایگزیکٹو لیسکو کی زیر صدارت ایم اینڈ ٹی ہیڈز کا اجلاس، اہم فیصلے
اخلاقیات کا درس
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی اخلاقیات نہ سکھائے اور ہم کسی کی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر منت سماجت نہیں کررہے، ہم اپنی مسلح افواج اور لوگوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیرونِ ممالک سے لائے جانیوالے موبائل فونز پر کتنا ٹیکس عائد؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
غزہ میں فوج بھیجنے کا معاملہ
غزہ میں فوج بھیجنے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ہمارا نہیں حکومت کا معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ لوگ پارٹی میں عہدہ لے کر آتے ہیں اور کچھ صرف رشتہ، مگر المیہ یہ ہے کہ عہدہ تو بے چارے آئین کی پیداوار ہوتا ہے، جبکہ رشتہ خود کو آئین کا ’’ایڈمن‘‘ اور کارکنوں کا ’’تھانیدار‘‘ سمجھنے لگتا ہے، شیر افضل مروت۔
سرحدی مسائل اور مقامی انتظامات
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کی سرحد 26 سو کلومیٹر طویل ہے جس میں پہاڑ اور دریا بھی شامل ہیں، ہر 25 سے 40 کلومیٹر پر ایک چوکی بنتی ہے، ہر جگہ نہیں بن سکتی، دنیا بھر میں سرحدی گارڈز دونوں طرف ہوتے ہیں، یہاں ہمیں صرف یہ اکیلے کرنا پڑتا ہے، ان کے گارڈز دہشت گردوں کو سرحد پار کرانے کے لئے ہماری فوج پر فائرنگ کرتے ہیں، ہم تو ان کا جواب دیتے ہیں۔
حکومتی فیصلے اور افہام و تفہیم
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ معرکہ حق میں حکومت پاکستان، کابینہ، فوج اور سیاسی جماعتوں نے مل کر فیصلے کیے، کے پی کے حکومت اگر دہشت گردوں سے بات چیت کا کہتی ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا اس سے کفیوژن پھیلتی ہے، طالبان ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کے سروں کے فٹ بال بناکر کھیلتے ہیں ان سے مذاکرات کیسے ہوسکتے ہیں؟








