پاکستان کی سیکیورٹی کی ضامن مسلح افواج ہیں، یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان کی سیکیورٹی کی حفاظت

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی، طالبان ہمارے سیکیورٹی اہل کاروں کے سروں کے فٹ بال بناکر کھیلتے ہیں ان سے مذاکرات کیسے ہوسکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: معین خان سے متعلق رکن سندھ اسمبلی فیک نیوز کا شکار: دعائے مغفرت کی درخواست کر دی

طالبان کے ساتھ ترقی کی لڑائی

سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی طالبان کی آمد پر جشن نہیں منایا، ہماری طالبان گروپوں کے ساتھ لڑائی ہے، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی۔

یہ بھی پڑھیں: سموگ کے بڑھتے خطرات، محکمہ ماحولیات پنجاب نے پبلک مقامات اور اہم شاہراہوں پر چونے اور ڈرائی سویپنگ پر پابندی لگادی

ڈرون کے حوالے سے وضاحت

ڈرون کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارا امریکا سے کوئی معاہدہ نہیں، ڈرون کے حوالے سے طالبان رجیم کی جانب سے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی، امریکا کے کوئی ڈرون پاکستان سے نہیں جاتے، وزارت اطلاعات نے اس کی کئی بار وضاحت بھی کی ہے، ہمارا کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہے کہ ڈرون پاکستان سے افغانستان جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ہوائی سفر کی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم ہو گیا، تیل کے بغیر چلنے والے جہاز کی کامیاب لینڈنگ

دہشت گردی کی شکار پاکستان

ان کا کہنا تھا کہ طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتی ہے، استنبول میں طالبان کو واضح بتایا ہے کہ دہشت گردی آپ کو کنٹرول کرنی ہے اور یہ کیسے کرنی ہے یہ آپ کا کام ہے، یہ ہمارے لوگ تھے جب یہاں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیا یہ بھاگ کر افغانستان چلے گئے، ان کو ہمارے حوالے کردیں ہم ان کو آئین اور قانون کے مطابق ڈیل کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی برادری کشمیر کے تصفیہ طلب بحران کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے، بلاول بھٹو

مقامی مسائل اور معیشت

انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی، جرائم پیشہ افراد اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ ہے، یہ لوگ افیون کاشت کرتے ہیں اور 18 سے 25 لاکھ روپے فی ایکڑ پیداوار حاصل کرتے ہیں، پوری آبادی ان لوگوں کے ساتھ مل جاتی ہے، وار لارڈز ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، یہ حصہ افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور وار لارڈز کو جاتا ہے، دہشت گردی، چرس، اسمگلنگ یہ سب کام یہ لوگ مل کر کرتے ہیں اور پیسے بناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی ملک نے فلسطین کے حوالے سے اہم اعلان کردیا

فوج کے داخلہ معاملات

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فوج کے اندر کوئی عہدہ کریئیٹ ہونا ہے تو یہ حکومت کا اختیار ہے ہمارا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زرعی ترقیاتی بینک میں کرپشن، چوری اور خورد برد کے انکشافات

انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ فوج نے وادی تیرہ میں کوئی آپریشن کیا، اگر ہم آپریشن کریں گے تو بتائیں گے، ہم نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے ہیں جن میں 200 کے قریب ہمارے جوان اور افسر شہید ہوئے، ہماری چوکیوں پر جو قافلے رسد لےکر جاتے ہیں ان پر حملے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی استدعا سے آخر کیا نقصان ہے؟، اسلام آباد ہائی کورٹ

گورنر راج اور ذمہ داریاں

گورنر راج کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ہماری نہیں وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، جو لوگ مساجد اور مدارس پر حملے کرتے ہیں ہم ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور آنے کے 2 ماہ بعد مجھے بطور ڈائریکٹر فیلڈ پروجیکٹس فیصل آباد تعینات کر دیا گیا، 1982ء میں گھر کا نقشہ بنوانے کی غرض سے آرکیٹیکٹ سے ملا۔

استنبول کانفرنس کا موقف

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ استنبول میں جو کانفرنس ہونی ہے ہمارا موقف بالکل کلیئر ہے، دہشت گردی نہیں ہونی چاہیے، مداخلت نہیں ہونی چاہیے، افغان سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیے، سیزفائر معاہدہ ہماری طاقت سے ہوا، افغان طالبان ہمارے دوست ممالک کے پاس چلے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: انگریز گاؤں کو ”گھسیٹ“کر اسٹیشن والی جگہ پر لے آئے اور 1894ء میں ایک ریلوے اسٹیشن بنا کر اس کا نام روجھاں والی رکھ دیا

اخلاقیات کا درس

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی اخلاقیات نہ سکھائے اور ہم کسی کی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر منت سماجت نہیں کررہے، ہم اپنی مسلح افواج اور لوگوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں گٹکا، ماوا تیار اور فروخت کرنے والوں کیخلاف شکنجہ تیار، آئی جی کی زیر صدارت اجلاس، اہم فیصلے

غزہ میں فوج بھیجنے کا معاملہ

غزہ میں فوج بھیجنے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ہمارا نہیں حکومت کا معاملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا قبل ازوقت جیت کا دعویٰ حقیقت سے توجہ ہٹانا ہے،کملا ہیرس

سرحدی مسائل اور مقامی انتظامات

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کی سرحد 26 سو کلومیٹر طویل ہے جس میں پہاڑ اور دریا بھی شامل ہیں، ہر 25 سے 40 کلومیٹر پر ایک چوکی بنتی ہے، ہر جگہ نہیں بن سکتی، دنیا بھر میں سرحدی گارڈز دونوں طرف ہوتے ہیں، یہاں ہمیں صرف یہ اکیلے کرنا پڑتا ہے، ان کے گارڈز دہشت گردوں کو سرحد پار کرانے کے لئے ہماری فوج پر فائرنگ کرتے ہیں، ہم تو ان کا جواب دیتے ہیں۔

حکومتی فیصلے اور افہام و تفہیم

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ معرکہ حق میں حکومت پاکستان، کابینہ، فوج اور سیاسی جماعتوں نے مل کر فیصلے کیے، کے پی کے حکومت اگر دہشت گردوں سے بات چیت کا کہتی ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا اس سے کفیوژن پھیلتی ہے، طالبان ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کے سروں کے فٹ بال بناکر کھیلتے ہیں ان سے مذاکرات کیسے ہوسکتے ہیں؟

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...