اسد قیصر نے 27 ویں آئینی ترمیم کا پروپوزل مسترد کردیا
اسد قیصر کا 27 ویں آئینی ترمیم کا مسترد کرنا
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے 27 ویں آئینی ترمیم کا پروپوزل مسترد کردیا۔ جیو نیوز سے گفتگو میں اسد قیصر نے آئین کی بحالی اور نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بھی بات چیت پر آمادگی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 11 نومبر کو عرب اسلامی سربراہی اجلاس ،شہباز شریف شرکت کیلئے 10 نومبر کو سعودی عرب جائیں گے.
آئینی ترمیم کی مخالفت
انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا پروپوزل مسترد کرتے ہیں، آئین کی بحالی اور این ایف سی ایوارڈ پر بلاول بھٹو سے بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ 26 ویں ترمیم کے دوران بھی آئینی عدالت کی تجویز تھی، آئینی بینچ کے بھی خلاف تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بی آئی ایس پی کے تحت سرکاری ملازمین کی بیگمات پنشرز اور انکے اہل خانہ کوبھی ادائیگیوں کا انکشاف
عدلیہ کی صورتحال
اُن کا کہنا تھا کہ سمجھتے ہیں ایک ہی سپریم کورٹ ہے، 27 ویں ترمیم سے عدلیہ کا مکمل ختم کیا جا رہا ہے، میں جو ترمیم لایا تھا، اس میں فوجی عدالتوں کے بعد ہائی کورٹ میں اپیل ذکر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارش، ژالہ باری، پہاڑوں سے آنے والا ریلا دیہات میں داخل
الیکشن کمیشن کی تعیناتی
اسد قیصر نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن تعیناتیوں کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی بات چیت ہوتی ہے، اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کے بعد یہ معاملہ حل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسحٰق ڈار وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کیلئے چین روانہ ہوں گے
پیپلز پارٹی کا کردار
انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر کا اعلان کریں اور غیر جانبدار رہیں، پیپلز پارٹی 73 کے آئین اور 18 ویں ترمیم کی خالق اور مرکزی جماعت ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کو پہلے سے خدشات ہیں کہ ان کو طے شدہ حصہ بھی نہیں ملتا، اگر این ایف سی ایوارڈ کو چھیڑا گیا تو اس سے ملک میں انارکی پھیلے گی۔
سیاسی قوتوں کا اتحاد
اُن کا کہنا تھا کہ 27 ویں ترمیم کے خلاف اگر پیپلز پارٹی کھڑی ہو تو ہم ان سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، امید ہے کہ پی پی پی آئین کو بچانے میں کردار ادا کرے گی۔ اسد قیصر نے کہا کہ پارلیمان میں تمام سیاسی جماعتوں کو اور جمہوری قوتوں کو اکٹھا ہو جانا چاہیے، تعلیم سے متعلق صوبوں کو بلا کر نصاب بنایا جا سکتا ہے لیکن وفاق مکمل کنٹرول نہیں کر سکتا۔








