27 ویں ترمیم کو ایسی خوفناک چیز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جیسے طوفان ہو، اتفاق رائے کے بغیر کوئی آئینی ترمیم نہیں ہوگی، رانا ثنا اللہ
وزیر اعظم کے مشیر کی بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ 27 ویں ترمیم کو ایسی خوفناک چیز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جیسے طوفان ہو۔ 27 ویں ترمیم پر ابھی مشاورت کا آغاز ہوا ہے، اتفاق رائے کے بغیر کوئی آئینی ترمیم نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کی بیٹی بھی ساتھ آئی ہے۔۔ اداکار یاسر نواز نے اپنے اور اہلیہ کے ساتھ پیش آنے والا دلچسپ واقعہ سنا دیا
بلاول بھٹو کے بیانات کا حوالہ
جیو نیوز کے پروگرام 'آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ' میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ جن چیزوں کا ذکر بلاول بھٹو نے کیا، کونسی چیز ہے جو زیربحث نہیں رہی؟ ان چیزوں پر تو گفتگو دو چار ماہ سے ہو رہی ہے۔ اتحادیوں اور دیگر سے بات کریں گے، اتحادیوں سے مشاورت کے بعد چیزوں کو سامنے لائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے جلد ریٹائرمنٹ اور پینشن پر جانے کا راستہ محدود کر دیا، پینشن رولز میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری
اتفاق رائے کا مطالبہ
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی ایسی دستاویز لوگوں کے درمیان لائیں جس پر اتفاق ہو، یہ زیادہ مناسب ہوگا۔ اتفاق رائے کے بغیر کوئی آئینی ترمیم نہیں ہوگی۔ ترمیم اگر آرہی ہے تو اس میں جمہوریت کے لیے کوئی خطرے کی بات نہیں۔ 27 ویں ترمیم پر ابھی مشاورت کا آغاز ہوا ہے، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: فی تولہ سونے کی قیمت میں 3000 روپے اضافہ
میثاق جمہوریت اور آئینی عدالت
وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت میں ہمارا پہلے دن سے مؤقف ہے کہ آئینی عدالت بننی چاہیے۔ سب کی رائے ہے کہ اگر آئینی عدالت ہو تو بہتر اور پائیداری سے معاملہ چل سکتا ہے۔ آئینی عدالت کے بجائے آئینی بینچ کی تجویز پی ٹی آئی نے دی تھی، پیپلزپارٹی کا آئینی عدالت پر اتفاق ہے، میثاق جمہوریت پر دستخط ہیں۔ ججز کے ٹرانسفر کا اختیار حکومت کو نہیں، جوڈیشل کمیشن کو ہونا چاہیے۔
این ایف سی پر بات چیت کا آغاز
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ این ایف سی پر بات شروع ہوگی تو پتہ چلے گا کون ناراض اور کون راضی ہے۔ اپوزیشن میں تو دوڑ لگی ہے کہ کون زیادہ جارحانہ انداز اپنائے اور اس کی تعریف ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ہماری بات کرادیں، وزیراعظم نے دو مرتبہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے بات کی۔








