پی آئی اے ایئرکرافٹ انجینئرز کا احتجاج، قومی ایئر لائن کا بین الاقوامی آپریشن شدید متاثر
پی آئی اے اور ایئرکرافٹ انجینئرز کے درمیان تنازع
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پی آئی اے انتظامیہ اور ایئرکرافٹ انجینئرز کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا، ایئر کرافٹ انجینئرز نے طیاروں کی کلیئرنس روک دی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ہیڈکوچ مکی آرتھر کا گیری کرسٹن کے استعفیٰ پر ردعمل آ گیا
پروازوں کی متاثرہ تعداد
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز ذرائع کے مطابق ایئرکرافٹ انجینئرز کے احتجاج کی وجہ سے قومی ائیرلائن کی پروازیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ گزشتہ رات 8 بجے کے بعد سے قومی ایئرلائن کی 6 بین الاقوامی پروازیں روانہ نہیں ہو سکیں، جس سے 12 بین الاقوامی پروازیں متاثر ہونے کے نتیجے میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ مسافروں میں ایک بڑی تعداد عمرہ زائرین کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: “20 سال ہوگئے، ہمارے گاؤں میں کئی کئی ہفتے پانی نہیں آتا، کئی دن نماز بھی نہیں پڑھ پاتے” کے پی کے کا وہ گاؤں جہاں رہنے والے پانی کی ایک ایک بوند کو ترس گئے۔
پروازوں کی صورت حال
احتجاج کی وجہ سے لاہور سے ابوظہبی اور اسلام آباد سے دمام اور دبئی جانے والی پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیصلے کے لیے وڈیرے کے پاس جانیوالی زیادتی کی شکار لڑکی کی پراسرار موت
ایئرکرافٹ انجینئرز کے مطالبات
سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز کے مطابق، وہ سی ای او قومی ایئرلائن کا رویہ ٹھیک ہونے تک کام نہیں کریں گے اور انہوں نے طیاروں کو اڑان کیلئے کلیئرنس دینے سے روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے گوجرانوالہ زون کی بڑی کارروائی، لیبیا کشتی حادثے کے مرکزی ملزم سمیت چار گرفتار
طویل احتجاج کا پس منظر
ذرائع سیپ کے مطابق ایئر کرافٹ انجینئرز اپنے مطالبات کے حق میں ڈھائی ماہ سے بازو پر کالی پٹیاں باندھ کر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ طویل پُرامن احتجاج کے باوجود قومی ایئرلائن کی انتظامیہ بات کرنے کیلئے تیار نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات کی تاریخ کا سب سے مہنگا طلاق کا مقدمہ دائر، ایک ارب درہم کا مطالبہ
قومی ایئر لائن کا ردعمل
ترجمان قومی ایئر لائن (پی آئی اے) نے ردعمل میں کہا کہ سوسائٹی آف ائیر کرافٹ انجینئرز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، اس تحریک کا مقصد پی آئی اے کی نجکاری کو سبوتاژ کرنا ہے۔ پی آئی اے لازمی سروسز ایکٹ نافذ ہے، کام چھوڑنا قانونی طور پر جرم ہے۔
متبادل اقدامات
ترجمان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ متبادل انجینئرنگ خدمات دوسری ایئر لائنز سے حاصل کر رہی ہے اور جلد ہی تمام پروازیں روانہ کر دی جائیں گی۔








