ہتک عزت دعویٰ ؛وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بطور گواہ سیشن کورٹ میں پیش
سماعت کا آغاز
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سیشن کورٹ لاہور میں وزیراعظم شہبازشریف کے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک عزت دعویٰ پر سماعت کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بطور گواہ پیش ہوئے۔ عدالت نے عطا اللہ تارڑ کو بیان قلمبند کروانے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر آپریشن کے دوران خاتون کے پیٹ میں ’بینڈچ‘ بھول گئے، پھر کیا ہوا؟ جانیے
عطا اللہ تارڑ کی گواہی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، عطا اللہ تارڑ نے عدالت میں کہا کہ وزیراعظم کی سیاسی و سماجی خدمات پوری دنیا جانتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نجی ٹی وی پروگرام میں مدعی پر جھوٹے، من گھڑت الزامات لگائے گئے، جن میں بتایا گیا کہ پاناما لیکس کو واپس لینے کے حوالے سے 10 ارب روپے کی پیش کش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: نکولس مادورو کی امریکہ کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد وینز ویلا کا صدر کون ہوگا؟
عدالت کی جانب سے سوالات
عدالت نے استفسار کیا کہ جس نے ٹرانسکرپٹ بنایا، وہ کہاں ہے؟ معاون وکیل شہباز شریف نے جواب دیا کہ بیان حلفی موجود ہے اور عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ عطا اللہ تارڑ نے بھی تصدیق کی کہ یہ الزامات تقریبات، جلسوں، اور عوامی اجتماع میں دہرائے گئے۔
وکیل بانی پی ٹی آئی کا اعتراض
وکیل بانی پی ٹی آئی نے پیش کردہ ریکارڈ قبول کرنے پر اعتراض کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیوز گواہ کی ملکیت نہیں ہیں اور نہ ہی گواہ نے انہیں ریکارڈ کیا ہے، اسی طرح اخباری تراشتے بھی گواہ سے متعلق نہیں ہیں اور بیان میں پیش نہیں کیے جاسکتے۔ عدالت نے تمام دستاویزات ایک بار جمع کرانے کی ہدایت کی۔








