لاہور ہائی کورٹ: 69 لاکھ کے چیک باؤنس مقدمے میں سزا پانے والا ملزم بری
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے 69 لاکھ کے چیک باؤنس مقدمے میں 3 سال قید اور جرمانے کی سزا پانے والے ملزم کو بری کر دیا۔ جسٹس صداقت علی خان نے ایک نیا قانونی نکتہ طے کیا کہ ہر ڈس آنر چیک فوجداری جرم نہیں ہوتا، جب تک بدنیتی ثابت نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سیکرٹری اطلاعات وثقافت اور ڈی جی پی آر کی کالم نگاروں سے ملاقات، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دورۂ چین پر بریفنگ
نظرثانی اپیل کا جائزہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، جسٹس صداقت علی خان نے شمیم اسلم کی نظرثانی اپیل کو منظور کر لیا اور 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی نور زمان کو انڈر 23 ورلڈ سکواش چیمپین شپ جیتنے پر مبارکباد
مقدمے کی تفصیلات
عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ چیک باؤنس کا مقدمہ ایک سال سے زائد تاخیر سے درج کیا گیا، اور اس تاخیر کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی گئی۔ مزید برآں، مدعی مقدمہ نے رقم کی وصولی کے لئے کوئی سول دعویٰ بھی دائر نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہائیر کا ایشیا کپ 2025 میں بطور گولڈ اسپانسر اسپورٹس-و-ٹینمنٹ کو مزید مستحکم کرنا
ملزم کے حقوق کی اہمیت
جسٹس صداقت علی خان نے فیصلے میں کہا کہ اگر رقم واجب الادا ہوتی تو سول عدالت سے بھی رجوع کیا جاتا۔ شک کا فائدہ ملزم کا بنیادی حق ہے۔ ملزم شمیم اسلم کے خلاف 30 نومبر 2024 کو چیک باؤنس کا مقدمہ درج کیا گیا اور 2 فروری 2025 کو ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنا کر شمیم اسلم کو 3 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔
فیصلہ اور نتیجہ
عدالت نے تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی تین سال قید اور 20 ہزار جرمانے کی سزا کالعدم قرار دے دی اور شمیم اسلم کو مقدمے سے بری کر دیا۔








