لاہور ہائی کورٹ: 69 لاکھ کے چیک باؤنس مقدمے میں سزا پانے والا ملزم بری
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے 69 لاکھ کے چیک باؤنس مقدمے میں 3 سال قید اور جرمانے کی سزا پانے والے ملزم کو بری کر دیا۔ جسٹس صداقت علی خان نے ایک نیا قانونی نکتہ طے کیا کہ ہر ڈس آنر چیک فوجداری جرم نہیں ہوتا، جب تک بدنیتی ثابت نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: حدیقہ کیانی اور الخدمت فاؤنڈیشن کا سیلاب متاثرین کے لیے بڑا ریلیف آپریشن، 1000 خاندانوں میں امدادی سامان کی تقسیم
نظرثانی اپیل کا جائزہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، جسٹس صداقت علی خان نے شمیم اسلم کی نظرثانی اپیل کو منظور کر لیا اور 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جہانیاں: کنسٹرکشن مشین کی تھرتھراہٹ کو زلزلہ سمجھ کو طالبات دوسری منزل سے کود پڑیں، متعدد زخمی
مقدمے کی تفصیلات
عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ چیک باؤنس کا مقدمہ ایک سال سے زائد تاخیر سے درج کیا گیا، اور اس تاخیر کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی گئی۔ مزید برآں، مدعی مقدمہ نے رقم کی وصولی کے لئے کوئی سول دعویٰ بھی دائر نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
ملزم کے حقوق کی اہمیت
جسٹس صداقت علی خان نے فیصلے میں کہا کہ اگر رقم واجب الادا ہوتی تو سول عدالت سے بھی رجوع کیا جاتا۔ شک کا فائدہ ملزم کا بنیادی حق ہے۔ ملزم شمیم اسلم کے خلاف 30 نومبر 2024 کو چیک باؤنس کا مقدمہ درج کیا گیا اور 2 فروری 2025 کو ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنا کر شمیم اسلم کو 3 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔
فیصلہ اور نتیجہ
عدالت نے تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی تین سال قید اور 20 ہزار جرمانے کی سزا کالعدم قرار دے دی اور شمیم اسلم کو مقدمے سے بری کر دیا۔








