امریکی تاریخ کے سب سے طاقتور نائب صدر، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے معمار، عراق پر جھوٹی جنگ مسلط کرنے کے منصوبہ ساز، ڈک چینی چل بسے

ڈک چینی کا انتقال

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن)  امریکہ کے سابق نائب صدر اور ریپبلکن پارٹی کے بااثر رہنما ڈک چینی چل بسے، ان کی عمر 84 برس تھی۔ خاندانی بیان کے مطابق ان کی موت نمونیا اور دل و خون کی شریانوں کی بیماری کے باعث ہوئی۔ ان کی اہلیہ لِن چینی، بیٹیاں لِز اور میری اور دیگر اہل خانہ ان کے آخری لمحات میں ان کے ساتھ موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں دس لاکھ سے زائد جنگجوؤں کو امریکہ کے ساتھ زمینی جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا ہے، تسنیم نیوز ایجنسی کا دعویٰ

ریاستی خدمات

سی این این کے مطابق ڈک چینی نے 2001 سے 2009 تک صدر جارج ڈبلیو بش کے نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہیں جدید امریکی تاریخ کا سب سے طاقتور نائب صدر اور ”وار آن ٹیرر“ (دہشتگردی کے خلاف جنگ) کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ وہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے مرکزی منصوبہ سازوں میں شامل تھے، جو بعد ازاں غلط مفروضوں پر مبنی ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ابھی کچھ استعفے اور آئیں گے، یہ کھینچا تانی اور تقسیم چیف جسٹس بننے کے لیے ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی

سیاسی نظریات

چینی کئی دہائیوں تک واشنگٹن کی طاقتور سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے رہے، تاہم اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کے اندر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کے باعث ان سے سیاسی طور پر دوری اختیار کر لی گئی۔ انہوں نے ٹرمپ کو ”بزدل“ اور ”ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ“ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر اعظم کے گندم کے کھلیان کو نامعلوم افراد نے آگ لگا دی

تاریخی ووٹ

دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے آخری صدارتی ووٹ (2024 کے انتخابات) میں ڈک چینی نے ریپبلکن امیدوار کے بجائے ڈیموکریٹ نائب صدر کمالا ہیرس کو ووٹ دیا، جسے ان کے نظریاتی سفر کا ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے گلوبل پی کے ایم ایپ متعارف کروا دی گئی

طبی مسائل

چینی کو جوانی سے ہی دل کے امراض کا سامنا رہا۔ انہوں نے کئی ہارٹ اٹیک برداشت کیے اور 2012 میں دل کی پیوندکاری (heart transplant) کرائی تھی۔ 2014 کے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس سرجری کو “زندگی کا تحفہ” قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے میچ میں جنوبی افریقا نے بھارت کو 51 رنز سے ہرا دیا

وکالت اور اثرات

ڈک چینی نے وائیومنگ سے کانگریس رکن، وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف اور وزیرِ دفاع کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کے وقت صدر بش شہر سے باہر تھے، جبکہ چینی وائٹ ہاؤس میں موجود تھے۔ انہوں نے بعدازاں کہا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دوسرا طیارہ ٹکرانے کے لمحے نے انہیں ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اسی لمحے انہوں نے فیصلہ کیا کہ امریکہ پر دوبارہ ایسا حملہ کبھی نہیں ہونے دیں گے۔

تاریخی تشخیص

تاہم مؤرخین کے مطابق ”وار آن ٹیرر“ اور عراق و افغانستان جنگ کی مکمل ذمہ داری چینی پر ڈالنا درست نہیں، کیونکہ صدر بش خود کو ہمیشہ "دی ڈیسائیڈر" یعنی فیصلہ کرنے والا شخص کہا کرتے تھے۔ ڈک چینی کی موت کے ساتھ ہی امریکی سیاست کا ایک انتہائی متنازع مگر اثر انگیز باب بند ہو گیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...