امریکی تاریخ کے سب سے طاقتور نائب صدر، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے معمار، عراق پر جھوٹی جنگ مسلط کرنے کے منصوبہ ساز، ڈک چینی چل بسے
ڈک چینی کا انتقال
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ کے سابق نائب صدر اور ریپبلکن پارٹی کے بااثر رہنما ڈک چینی چل بسے، ان کی عمر 84 برس تھی۔ خاندانی بیان کے مطابق ان کی موت نمونیا اور دل و خون کی شریانوں کی بیماری کے باعث ہوئی۔ ان کی اہلیہ لِن چینی، بیٹیاں لِز اور میری اور دیگر اہل خانہ ان کے آخری لمحات میں ان کے ساتھ موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: 23 نومبر کو ازخود قوم سے خطاب کرنیوالی بشریٰ بی بی آج ”اچھے بچوں“کی طرح خاموش ہے:عظمیٰ بخاری
ریاستی خدمات
سی این این کے مطابق ڈک چینی نے 2001 سے 2009 تک صدر جارج ڈبلیو بش کے نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہیں جدید امریکی تاریخ کا سب سے طاقتور نائب صدر اور ”وار آن ٹیرر“ (دہشتگردی کے خلاف جنگ) کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ وہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے مرکزی منصوبہ سازوں میں شامل تھے، جو بعد ازاں غلط مفروضوں پر مبنی ثابت ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: احسن خان کی کرس گیل کے ساتھ ڈانس ویڈیو وائرل
سیاسی نظریات
چینی کئی دہائیوں تک واشنگٹن کی طاقتور سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے رہے، تاہم اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کے اندر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کے باعث ان سے سیاسی طور پر دوری اختیار کر لی گئی۔ انہوں نے ٹرمپ کو ”بزدل“ اور ”ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ“ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں چائنا فلم فیسٹیول کا انعقاد پاکستان کی فلم انڈسٹری کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ہے:عظمیٰ بخاری
تاریخی ووٹ
دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے آخری صدارتی ووٹ (2024 کے انتخابات) میں ڈک چینی نے ریپبلکن امیدوار کے بجائے ڈیموکریٹ نائب صدر کمالا ہیرس کو ووٹ دیا، جسے ان کے نظریاتی سفر کا ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا
طبی مسائل
چینی کو جوانی سے ہی دل کے امراض کا سامنا رہا۔ انہوں نے کئی ہارٹ اٹیک برداشت کیے اور 2012 میں دل کی پیوندکاری (heart transplant) کرائی تھی۔ 2014 کے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس سرجری کو “زندگی کا تحفہ” قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: 30 لاکھ روپے تاوان کیلئے نوجوان کو اغوا کرنے والے پولیس اہلکاروں پر مقدمہ
وکالت اور اثرات
ڈک چینی نے وائیومنگ سے کانگریس رکن، وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف اور وزیرِ دفاع کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کے وقت صدر بش شہر سے باہر تھے، جبکہ چینی وائٹ ہاؤس میں موجود تھے۔ انہوں نے بعدازاں کہا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دوسرا طیارہ ٹکرانے کے لمحے نے انہیں ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اسی لمحے انہوں نے فیصلہ کیا کہ امریکہ پر دوبارہ ایسا حملہ کبھی نہیں ہونے دیں گے۔
تاریخی تشخیص
تاہم مؤرخین کے مطابق ”وار آن ٹیرر“ اور عراق و افغانستان جنگ کی مکمل ذمہ داری چینی پر ڈالنا درست نہیں، کیونکہ صدر بش خود کو ہمیشہ "دی ڈیسائیڈر" یعنی فیصلہ کرنے والا شخص کہا کرتے تھے۔ ڈک چینی کی موت کے ساتھ ہی امریکی سیاست کا ایک انتہائی متنازع مگر اثر انگیز باب بند ہو گیا۔








