افغان وزیر خارجہ کی متعدد کالز آئیں، انہیں بتایا کہ ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، اسحاق ڈار
افغان وزیر خارجہ سے ملاقات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی سے بیان دیا ہے کہ ہمیں آپ سے صرف ایک چیز چاہیے: آپ کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو چین سے تجارتی معاہدے کی صورت میں 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی
اسحاق ڈار کی گفتگو
سینیٹ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ مجھے کل امیر خان متقی کی 6 مرتبہ کال آئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے متقی سے کہا کہ ہمیں آپ کی زمین کی حفاظت چاہیے، کیونکہ آپ نے مجھے بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی پہلی قومی میڈیا اور معلوماتی خواندگی کی حکمت عملی کی تشکیل: پالیسی سازوں کے ساتھ مذاکراہ
سابقہ تجربات
اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ جب 2021 میں طالبان کی حکومت آئی، تو پاکستان نے صرف ایک چائے کے کپ کے لیے وہاں جانے کی کوشش کی، جس کا اثر پاکستان پر مہنگا پڑا۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایسی غلطیاں نہیں ہونی چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کی دستبرداری، پی سی بی نے سہ ملکی سیریز کے لیے کس نئی ٹیم سے رابطہ کر لیا؟ جانیے
افغانستان اور پاکستان کے تعلقات
اسحاق ڈار نے کہا کہ افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد 4 سال تک دونوں ملکوں کے درمیان کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی۔ انہوں نے افغانستان جا کر بات چیت کی اور ایک معاہدہ کی کوشش کی، اس مطالبے کے ساتھ کہ افغانستان کی سرزمین پاکستانی مفادات کے خلاف استعمال نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ؛ دریائے سندھ میں کشتی ڈوب گئی
حالیہ صورتحال
نائب وزیر اعظم نے موجودہ افغان حکومت کے تحت روزانہ بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عزم کیا ہے کہ ہم آخری دم تک لڑیں گے، اور امید ہے کہ 6 نومبر کو مذاکرات میں پیشرفت ہوگی۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کئی آپریشن کیے گئے، جن کی بدولت 2018 تک ملک میں دہشت گرد حملے کم ہوئے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں علماء کو 10 ہزار یا 25 ہزار دینے کے بارے میں انہیں علم نہیں ہے، اگر ایسا ہے تو یہ افسوسناک ہے۔








