انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم، ہائیکورٹ نے مقدمہ دوبارہ سیشن کورٹ کو بھجوا دیا

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت مسترد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ دوبارہ سیشن کورٹ کو بھجوا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قیدیوں کے تبادلے کے بعد روس کا یوکرین کے دارالحکومت پر بڑا حملہ

سماعت کی تفصیلات

نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق مذہبی سکالر انجینئر محمد علی مرزا کے ضمانت کیس کی سماعت لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے کی۔ عدالت نے سیشن کورٹ کا فیصلہ ریمانڈ بیک کرتے ہوئے ہدایت دی کہ تمام ریکارڈ اور دستاویزات کا ازسرِ نو جائزہ لے کر دوبارہ فیصلہ سنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان فٹبال فیڈریشن اپنی غیر معمولی کانگریس 19 نومبر منعقد کرے گی

وکیل کا بیان

علی مرزا کے وکیل ایڈووکیٹ ڈاکٹر طاہر ایوبی کے مطابق، “یہ پہلا موقع ہے کہ توہینِ رسالت کے کیس میں ضمانت خارج کرنے کے فیصلے کو ہائی کورٹ نے واپس بھیج کر دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔”

یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات کے اثرات، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 2 فیصد کم ہوگئی

اسلام آباد ہائی کورٹ کی سماعت

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے سے متعلق قرارداد کو کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے تاحال تحریری جواب جمع نہیں کرایا گیا، جس پر عدالت نے ایک ہفتے کی آخری مہلت دیتے ہوئے کونسل کو جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگرد تنظیموں کیخلاف فوجی آپریشن کی منظوری

متفرق درخواست کی صورتحال

اسی دوران انجینئر مرزا کی جانب سے فریق بننے کی متفرق درخواست بھی دائر کی گئی، تاہم رجسٹرار آفس نے اس پر اعتراضات عائد کر دیے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہی اعتراضات کے باعث درخواست سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکی۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں گرمی کی شدت میں اضافہ، درجہ حرارت 47 ڈگری تک محسوس ہونے لگا

جسٹس کے ریمارکس

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ پہلے اعتراضات دور کیے جائیں، اس کے بعد فریق بننے کی درخواست پر فیصلہ دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کی بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہے، تو پھر تمام توہینِ رسالت کے کیسز بھی اسی کونسل کو بھیجے جانے چاہییں۔

یہ بھی پڑھیں: مخصوص طبقے کو سستی بجلی، گیس اور ٹیکس چھوٹ دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے: مصدق ملک

وکیل ڈاکٹر اسلم خاکی کا مؤقف

وکیل ڈاکٹر اسلم خاکی نے مؤقف اپنایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے، کیونکہ وہ صرف صدرِ مملکت یا گورنر کی درخواست پر ہی رائے دینے کی مجاز ہے۔ جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے طنزیہ ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “ممکن ہے اب انہیں تفتیشی اختیارات بھی دے دیے گئے ہوں۔”

عدالت کا حکم

وکیل نے استدعا کی کہ کونسل کی جانب سے مرزا کے خلاف منظور شدہ قرارداد کو معطل کیا جائے، تاہم عدالت نے کہا کہ دوسری جانب کا جواب آنے تک عبوری حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...