تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری
پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیر خارجہ نے پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں امریکی کردار کا اعتراف کر لیا
اجلاس کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس قومی اسمبلی میں ہوا، جس کی صدارت پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کی۔ اجلاس میں قومی اسمبلی کے ارکان سمیت پارٹی قیادت نے بھرپور شرکت کی، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے بھی خصوصی طور پر اجلاس میں شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: معصوم لوگوں کا خون بہانا جہاد نہیں فساد ہے: حافظ طاہر محمود اشرفی
سیاسی صورتحال پر گفتگو
اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، 27ویں آئینی ترمیم اور پارلیمانی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان ڈیڑھ سال کیلئے وزیراعظم بن سکتے ہیں‘ تہلکہ خیز دعویٰ
27ویں آئینی ترمیم کا موقف
پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ "27ویں آئینی ترمیم صوبائی خودمختاری پر حملہ اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے، اسے ہر سطح پر مسترد کیا جائے گا۔" ارکان نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک میں آئین، جمہوریت اور وفاقی اکائیوں کے حقوق کی محافظ ہے، اور کسی بھی غیر آئینی ترمیم کو منظور نہیں ہونے دے گی۔
یہ بھی پڑھیں: یہ بھارتی رافیل طیارے کا انجن لگتا ہے
احتجاج کا اعلان
پارلیمانی پارٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈار صاحب ترمیم کے حوالے سے نمبر پورے ہیں؟نائب وزیراعظم نے جواب دیدیا
اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی
اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی جائے، تاکہ ایوان میں حقیقی جمہوری توازن بحال ہو۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جریدوں کی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تعریف، بھارت کو ’’لوزر‘‘ قرار دیدیا
دوسری قراردادیں
مزید برآں، پارلیمانی پارٹی نے بانی چیئرمین عمران خان کے حکم کے مطابق احمد چٹھہ (صدر وسطی پنجاب) اور بلال اعجاز (جنرل سیکرٹری) کی بحالی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔
پارلیمانی پارٹی نے چیئرمین عمران خان سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات کے لیے قرارداد منظور کرتے ہوئے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ملاقات کا فوری انتظام کریں۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تعیناتی کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔
جمہوریت پسند قوتوں کا اتحاد
پارٹی رہنماؤں نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ "ملک کی تمام جمہوریت پسند قوتوں کو غیر آئینی ترمیم کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔" 1973ء کا آئین پاکستان کا متفقہ معاہدہ ہے، اس پر کسی کو ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ موجودہ پارلیمان فارم 47 کی پیداوار ہے اور کسی آئینی ترمیم کا اخلاقی جواز نہیں رکھتی۔








