ایک لمحہ جو ٹھہر گیا ۔۔۔

ایک خاص صبح

وہ صبح عام صبحوں جیسی نہیں تھی۔ ارم نے جب آنکھ کھولی تو کھڑکی سے آتی ہلکی روشنی میں بارش کے بعد کی نمی محسوس ہوئی۔ ہوا میں ایک خوشبو تھی ، مٹی، کافی اور تنہائی کی۔
یہ شہر لاہور دن بدن شور میں ڈوبتا جا رہا تھا، مگر ارم کے کمرے میں خاموشی کا راج تھا۔ وہ اکیلی رہتی تھی، ایک پرانی عمارت کے تیسرے فلور پر، جہاں بالکونی سے نیچے ایک کیفے نظر آتا تھا۔ اسی کیفے میں وہ اکثر اپنی کافی لے کر بیٹھتی، کسی کتاب میں کھو جاتی یا پھر لوگوں کو دیکھتی رہتی۔ اجنبی چہروں میں کہانیاں ڈھونڈنے کی اسے عادت تھی۔

یہ بھی پڑھیں: مسلح افواج پر کنٹریبیوٹری پنشن سکیم کے اطلاق میں مزید تاخیر کا امکان، آئی ایم ایف سے منظوری لینے کا فیصلہ کرلیا گیا

تنہائی اور فن کا ساتھ

وہ کرائے کے ایک گھر میں تنہا رہا کرتی تھی، بہن بھائی کوئی تھا نہیں اور ماں باپ بہت پہلے ایک ٹریفک حادثے میں دنیا سے گذر گئے تھے۔ اب اس کا فن ہی اس کی زندگی اور اس کی تنہائی ہی اس کی ساتھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: انٹراپارٹی الیکشن فیصلے کیخلاف نظرثانی کیس؛آپ نے اس پوائنٹ کو پہلے کیوں نہیں اٹھایا؟چیف جسٹس پاکستان کا وکیل پی ٹی آئی کا استفسار

زندگی کی سکرین

وہ ایک فری لانس گرافک ڈیزائنر تھی، گھر سے کام کرتی تھی۔ دنیا اس کے لیے ایک اسکرین تھی، جہاں رنگ، تحریریں اور خواب اکٹھے ہوتے تھے۔ مگر اسکرین کے پار، حقیقی دنیا میں، وہ تنہا تھی۔ کبھی کبھی اسے لگتا تھا کہ وہ اپنے ہی وجود کی خاموش بازگشت میں قید ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے: روس کی جانب سے ایران، امریکہ جنگ بندی کا خیرمقدم

نیا چہرہ

اسی دن نیچے کیفے میں ایک نیا چہرہ نظر آیا۔ وہ لڑکا، جس کے ہاتھ میں کیمرہ تھا اور نظریں کسی کہانی کی تلاش میں۔ اس نے ایک کافی آرڈر کی، اور پھر سامنے بیٹھ کر نوٹ بک پر کچھ لکھنے لگا۔ ارم کی نظریں غیر ارادی طور پر اس پر جم گئیں۔
اس کے چہرے پر ایک طرح کی خاموش شدت تھی، جیسے وہ بولنا چاہتا ہو مگر الفاظ نہ مل رہے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی فوجیوں کو قیدی بنانے کا ایرانی دعوی، امریکا کا ردعمل سامنے آگیا

دوستی کا آغاز

کچھ دن ایسے ہی گزر گئے۔ وہ لڑکا روز آتا، ایک ہی میز پر بیٹھتا، کافی پیتا، اور کبھی کسی تصویر پر جھک کر کچھ نوٹ کرتا۔
پھر ایک دن جب ارم نے نیچے سے اپنی کافی لی، تو وہ اتفاقاً اسی میز کے قریب سے گزری۔ لڑکے نے سر اٹھا کر دیکھا، اور مسکرا دیا۔
بس وہ ایک مسکراہٹ تھی، مگر ارم کے اندر جیسے کوئی دروازہ کھل گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی میں سینیئر صحافی سلمان غنی کے اعزاز میں تقریب، مثبت صحافت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور

پہلی گفتگو

اگلے دن وہ پھر کیفے میں گئی، مگر اس بار کافی لے کر وہ سامنے والی خالی کرسی پر رک گئی۔
“یہ جگہ خالی ہے؟”
“اب نہیں۔” لڑکے نے ہلکی ہنسی کے ساتھ کہا۔
“آپ فوٹوگرافر ہیں؟”
“کبھی تھا۔ اب زیادہ لکھتا ہوں۔”
“کیا لکھتے ہیں؟”
“لمحات۔ جو گزر جاتے ہیں، مگر رہ جاتے ہیں۔”
ارم کو اس کا انداز پسند آیا۔
“میں بھی لمحات ڈیزائن کرتی ہوں۔”
“کیا مطلب؟”
“میں گرافک ڈیزائنر ہوں۔ لوگ تصویریں اور رنگ مانگتے ہیں، مگر میں ان میں احساس ڈھونڈتی ہوں।”

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اسمبلی نے ریڈیو پاکستان پشاور واقعہ کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی

نرم وابستگی

اور پھر وہ دونوں ہنس پڑے۔
یوں وہ ملاقات، جو شاید چند لمحوں کی تھی، ایک خاموش آغاز بن گئی۔

دن گزرتے گئے۔ وہ دونوں روز کیفے میں ملتے، کبھی باتیں کرتے، کبھی خاموش بیٹھتے۔ خاموشی بھی کبھی کبھار گفتگو سے زیادہ سچی ہوتی ہے۔
لڑکے کا نام فراز تھا۔ وہ کبھی اخبارات کے لیے تصویریں کھینچتا تھا، مگر اب ایک آزاد فوٹوگرافر کے طور پر کہانیاں لکھتا اور کیمرے سے ان کے عکس قید کرتا تھا۔
ارم کے لیے وہ کسی فلمی کردار کی طرح تھا — تھوڑا اداس، تھوڑا پرعزم۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کے ہوٹلوں، فاسٹ فوڈ اور بریانی سینٹرز پر مردہ مرغیوں کے گوشت کی سپلائی کا انکشاف

سوالات اور احساسات

ایک دن فراز نے ارم سے پوچھا، “کبھی اپنے بارے میں سوچا؟ تم اتنی خاموش کیوں ہو؟”
ارم نے کچھ دیر سوچ کر کہا، “کیونکہ لوگ شور سنتے ہیں، احساس نہیں۔ میں وہ باتیں سننا چاہتی ہوں جو لفظوں کے بعد بھی باقی رہتی ہیں۔”
فراز نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، جیسے وہاں کوئی جواب چھپا ہو۔
“کبھی کبھی لگتا ہے تم خود ایک کہانی ہو، ارم۔”
“اور تم شاید وہ مصنف ہو جو اسے پڑھنا چاہتا ہے،” ارم نے مسکراتے ہوئے کہا۔

یہ بھی پڑھیں: قلعہ عبداللہ سے گزشتہ رات اغواء کیے گئے 2 افراد کی لاشیں مل گئیں

اعتراف اور وعدے

ان کے درمیان اب ایک نرم سی وابستگی تھی۔ وہ دونوں زندگی سے بھاگے ہوئے دو وجود تھے، جنہیں ایک دوسرے میں سکون مل رہا تھا۔

پھر ایک دن، فراز نے کہا، “میں ایک پروجیکٹ پر شمال جا رہا ہوں، شاید دو مہینے کے لیے۔ تم یاد کرو گی؟”
ارم نے سر جھکایا، “میں تو تمہیں پہلے ہی یاد کرتی ہوں، جب تم سامنے بھی ہوتے ہو۔”
فراز نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔ “میں واپس آؤں گا، صرف تمہارے لیے۔”
اور وہ چلا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی احکامات تسلیم نہ کرنے پر سکولوں کو بند کرنے کا عندیہ

انتظار کی گھڑیاں

ارم نے ان دنوں میں کام کیا، مگر دل اکثر کھڑکی کے اس پار ٹھہر جاتا۔
فراز نے کچھ خطوط بھیجے، چند تصویریں — برف میں ڈھکے پہاڑ، دریا کے کنارے ایک لکڑی کی بینچ، اور ایک تصویر میں اس نے خود کو ارم کے لیے مسکراتے ہوئے بھیجا۔

یہ بھی پڑھیں: ساجد خان نے انگلینڈ ٹیسٹ سیریز کی ٹرافیاں اپنے بیٹوں کے حوالے کر دیں

خاموشی اور خوف

مگر پھر اچانک خاموشی چھا گئی۔ کوئی خط نہیں، کوئی پیغام نہیں۔
ایک ہفتہ، دو، پھر تین۔
ارم کے اندر خوف سا اترنے لگا۔
کیا وہ لوٹے گا؟ کیا کہانیاں ہمیشہ ادھوری رہتی ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: پولیس نے 1000 روپے مالیت کے جوتے کی چوری کا مقدمہ درج کر لیا

خوش آمدید

پھر ایک دن، دروازے پر دستک ہوئی۔
ارم نے دروازہ کھولا تو سامنے وہی تھا — فراز۔ چہرہ تھکا ہوا، مگر آنکھوں میں روشنی۔
“میں واپس آگیا ہوں۔”
ارم کی آنکھوں میں نمی آگئی۔ “میں نے سوچا تم نہیں آؤ گے۔”
“میں نے سوچا اگر نہ آیا تو شاید کبھی خود کو معاف نہ کر سکوں گا۔”

یہ بھی پڑھیں: ملک میں سیمنٹ کی ریٹیل قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ

پیار کا وعدہ

اس نے جیب سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکالا۔
“یہ تمہارے لیے۔”
اندر ایک چھوٹی سی چاندی کی انگوٹھی تھی — بہت سادہ، مگر معنی سے بھری۔
“یہ محبت کی نشانی نہیں، وعدے کی ہے۔ کہ ہم دونوں مل کر وہ زندگی بنائیں گے، جس میں خاموشی بھی خوشی بن جائے۔”
ارم نے مسکرا کر کہا، “اور اگر کبھی شور زیادہ ہو گیا؟”
فراز نے اس کے ہاتھ تھام کر کہا، “تو ہم اپنی محبت کی آواز بڑھا دیں گے۔”

یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی فورسز کا قلات میں آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشت گرد جہنم واصل

یادگار لمحے

رات ایک عجیب سی روشنی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ بارش کے بعد شہر کی سڑکیں بھیگی تھیں، اور فضا میں وہ مخصوص نمی تھی جو یادوں کو جگا دیتی ہے۔ ارم نے بالکونی سے نیچے دیکھا، فراز نیچے کیفے میں بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ٹھہری ہوئی مسکراہٹ تھی، جیسے وہ جانتا ہو کہ وہ اوپر سے دیکھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا، پاک فوج نے بھی تصدیق کردی

ایک نئی زندگی

اب ان کی ملاقاتیں روز کی بات بن گئیں۔ کبھی وہ فلمیں دیکھتے، کبھی گلیوں میں بے مقصد گھومتے، کبھی چائے کے کپ کے ساتھ خاموش بیٹھ جاتے۔ فراز نے ارم کو اپنے کیمرے سے تصویریں لینا سکھایا۔ ارم نے فراز کو اپنے ڈیزائن کے رنگ دکھائے۔ دونوں کے بیچ ایک عجیب سا توازن پیدا ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی، پہلی بار ریگولیٹری اتھارٹی قائم

محبت کی تعریف

ایک شام فراز نے کہا، “کیا محبت کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن ہے؟”
ارم نے کہا، “شاید نہیں۔ محبت وہ ہے جو لفظوں سے پہلے شروع ہوتی ہے اور لفظوں کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔”

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا حماس کے سربراہ محمد سنوار کی لاش ملنے کا دعویٰ

زندگی کا نیا مرحلہ

پھر زندگی نے ایک موڑ لیا۔ فراز کو ایک بڑا پروجیکٹ ملا — دبئی میں۔ چھ ماہ کے لیے۔
“میں نہیں چاہتا کہ تم روکو مجھے،” اس نے کہا۔
“میں کیوں روکوں؟ محبت اگر قید بن جائے تو وہ محبت نہیں رہتی۔”
“تم واقعی سمجھتی ہو نا، میں واپس آؤں گا؟”
“تم جا رہے ہو، لیکن واپس تو وہی لوگ آتے ہیں جن کے پاس کوئی انتظار کرنے والا ہو۔”
“پھر میں ضرور واپس آؤں گا۔”

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں انتہا پسندوں کا ’’انوکھا انتقام‘‘ جن مٹھائیوں میں ’’پاک‘‘ کا لفظ آتا تھا ان کا نام بھی بدل ڈالا

دکھ اور دعا

مگر جب وہ گیا، ارم کے دن طویل اور راتیں خالی ہو گئیں۔
پھر ایک دن پیغام آیا — “مجھے تمہاری ضرورت ہے، ابھی۔”
ارم کا دل رک گیا۔ کال کی، مگر جواب نہ آیا۔ پھر پیغام آیا — “کال مت کرو، بس دعا کرو۔”
وہ رو دی۔

یہ بھی پڑھیں: فحش ویڈیو بنانے کا سکینڈل؛ مدعیہ کا بیان تبدیل، مرکزی ملزم سے بھاری رقم لینے کا انکشاف

موڑ پر مشکلات

کچھ دن بعد پتا چلا، فراز ایک حادثے میں زخمی ہوا ہے۔ ارم نے ٹکٹ لی، مگر جا نہ سکی۔ وہ بس روز دعا کرتی رہی۔
پھر ایک ویڈیو کال آئی۔ فراز کا چہرہ کمزور مگر زندہ تھا۔
“میں ٹھیک ہوں، ارم۔ بس تھوڑا وقت لگے گا۔”
“تمہیں اندازہ ہے میں نے کیا کیا سوچ لیا تھا؟”
“محبت میں اندیشے بھی محبت کی علامت ہیں۔ تم فکر کرتی ہو، اس کا مطلب ہے تم واقعی میری ہو۔”
ارم اب خود ایک سوال بن گئی تھی۔“واپسی کب تک ہوگی ؟”
“جلد۔ بس وعدہ کرو، ہار نہیں مانو گی۔”

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا چائلڈ لیبر کے لیے ماہانہ وظیفے دینے کا فیصلہ

خیال کی طاقت

فراز خود ناتواں ہوئے ہوئے بھی ارم کی طاقت بن گیا تھا کیونکہ اس کا ہونا ہی ارم کے لیے اہم تھا۔
“میں تب تک ہار نہیں مانوں گی جب تک تم واپس نہیں آ جاتے۔”

یہ بھی پڑھیں: ہم بچوں کو مذاہب کی تعلیم دیتے ہوئے ان میں باہمی احترام، برداشت اور رواداری کی فضاء پیدا کر کے مثالی معاشرے کا قیام عمل میں لا سکتے ہیں

ایک نئی شروعات

چند ہفتے بعد وہ واپس آیا۔ داغ چہرے پر، مگر روشنی آنکھوں میں۔
“میں نے بہت کچھ کھو دیا، مگر سب سے قیمتی چیز یہی سمجھی — تم۔”
“پھر آؤ، دوبارہ سب کچھ شروع کرتے ہیں۔”
“پھر سے کیوں؟ وہ کبھی ختم ہوا ہی کب تھا۔”

یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر تحریری فیصلہ جاری

تخلیقی سفر

دونوں نے ساتھ کام شروع کیا۔ ان کا پروجیکٹ “چہرے کہانیاں” مشہور ہوا۔
ایک شام فراز نے سب کے سامنے کہا، “یہ صرف میری پارٹنر نہیں، میری کہانی کی مصنفہ ہے۔”
ارم مسکرائی، “اور اگر تم نہ ہوتے، تو شاید میں آج بھی رنگوں میں احساس ڈھونڈ رہی ہوتی۔”

یہ بھی پڑھیں: کراچی: سمگل شدہ پٹرول فروخت کرنے والے صوبے میں 176 پمپس سیل کرنے کا حکم

محبت کی روشنی

رات آئی، شہر سو گیا، مگر ان کی کہانی جاگتی رہی۔
اسی رات فراز نے ایک چھوٹی سی انگوٹھی ارم کے ہاتھ میں رکھی۔
“کیا تم میری زندگی کی سب سے سچی تصویر بننا چاہو گی؟”
ارم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی، “ہاں، کیونکہ میں تمہارے بغیر ادھورا رنگ ہوں۔”

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کی موثر پالیسی کے باعث دہشتگردی کو کنٹرول کیا گیا: مراد علی شاہ

نکاح اور نئے خواب

انہوں نے نکاح کیا — سادہ، خاموش، مگر خوبصورت۔
پھر دونوں نے اسٹوڈیو کھولا: “خاموش روشنی”۔
وہ عام لوگوں کی کہانیاں قید کرتے، محبت کی تصویریں بناتے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ کا عجیب توہم پرست گاؤں جہاں کرسی اور چارپائی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں

آخری تصویر

ایک شام فراز نے کہا، “چلو، ایک آخری تصویر لیتے ہیں۔”
ٹائمر لگا، فلیش چمکا، اور وہ دونوں مسکرا رہے تھے۔
پیچھے فراز نے لکھا:
“محبت وہ نہیں جو دل میں رہے، محبت وہ ہے جو وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی جائے۔”

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی بڑی تباہی سے بچ گیا، فتنہ الخوارج کا خطرناک دہشت گرد گرفتار

راز محبت

وقت گزرتا گیا۔ ایک دن ایک لڑکی آئی، “آپ دونوں کی تصویروں میں زندگی ہے، آکر اس کا راز کیا ہے؟”
ارم نے کہا، “راز؟ بس محبت کو تصویر بننے سے پہلے محسوس کر لو۔ پھر وہ کبھی مٹتی نہیں۔”

یہ بھی پڑھیں: اسد قیصر کی وفد کے ساتھ مولانا سے ملاقات ، میڈیا سے گفتگو کیے بغیر روانہ ہوگئے

یادیں اور محبت

شام کو بارش ہونے لگی۔ فراز نے کہا، “یاد ہے وہ پہلا دن؟ جب تم چھت سے دیکھ رہی تھیں؟”
“ہاں، اور تم نے پہلی بار مسکرا کر میری طرف دیکھا تھا۔”
“میں نے تب ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر وہ مسکراہٹ دوبارہ ملی، تو میں اسے کبھی جانے نہیں دوں گا۔”
“پھر تم کامیاب ہو گئے۔”
“نہیں، کامیاب تب ہوں گا جب وقت رک جائے اور ہم دونوں ایک لمحے میں ہمیشہ کے لیے رہ جائیں۔”

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت نے 24 جولائی کو امن و امان بارے آل پارٹیز کانفرنس طلب کرلی

محبت کی خوشبو

ارم نے اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔ بارش کی خوشبو، کافی کی مہک، وہی خاموشی — سب کچھ پھر سے لوٹ آیا۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے نہیں لگتا بڑی لیڈرشپ اڈیالہ جیل جا کر ملاقات کرے گی، سینیٹر کامران مرتضیٰ

کہانی کا اختتام

ان کے کمرے کی دیوار پر وہ آخری تصویر لگی تھی، جس کے نیچے فراز نے لکھا تھا:
“یہ کہانی ختم نہیں ہوئی، بس زندہ ہے — یہ ایک لمحہ ہے جو ٹھہر گیا ۔”

یہ بھی پڑھیں: 10 سال سے سندھ کو کچھ نہیں ملا، اس بار ازالے کی امید ہے: ناصر شاہ

نوٹ

نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

لکھنے کی دعوت

اگر آپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...