رشتوں کا خون
آنسوؤں کی بارش
بارش برس رہی تھی۔ کمرے کی کھڑکی کے شیشے پر بوندیں ٹک ٹک کر کے گر رہی تھیں، جیسے وقت کی دستک ہو… مگر رشید احمد کے لیے وقت کب کا رُک چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 2018 کے حالات کے ذمہ دار قمر جاوید باجوہ، کورٹ مارشل ہونا چاہیے، خواجہ آصف
رشید احمد کی زندگی
70 سالہ رشید جس نے زندگی بھر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ایک سرکاری سکول میں اردو کے استاد رہے۔ بچوں کو غالب، میر، فیض پڑھایا، رشتوں کی مٹھاس، خلوص کی قدر، اور حق حلال کی کمائی کا سبق دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ رشتے خون سے نہیں، قربانی، احساس اور وقت دینے سے جیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹانک میں مسلح افراد کا گھر پر حملہ، 2 بھائیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
عائلتی یادیں
ان کا گھر کبھی ایک جنت تھا۔ صحن میں آم کا پیڑ، شام کی چائے، بیوی کی ہنستی ہوئی آواز، بچوں کی کھیل کود — سب کچھ مکمل تھا۔ بیوی، شمیم، نرم مزاج اور سادہ عورت تھی، جس نے رشید کے ساتھ غربت میں بھی کبھی شکوہ نہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کسانوں کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے: مریم نواز
تعلیم اور قربانیاں
بیٹے، فہد اور جبران، اور ایک بیٹی نائلہ۔ تینوں کو انہوں نے اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ خود نیا کپڑا نہ خریدا، مگر بچوں کے لیے ہمیشہ بہترین کا انتخاب کیا۔ ہر خواہش دبا لی، بس ایک خواب تھا کہ بچے کامیاب ہوں، خوش ہوں، اور کل جب بڑھاپا آئے تو ان کی محبت چھاؤں بنے۔
یہ بھی پڑھیں: رائل چیلنجرز بنگلور کی جیت کے جشن کے دوران ہلاکتیں، ایف آئی آر درج
خوابوں کی حقیقت
لیکن وقت نے دکھایا کہ خواب کبھی کبھار بدترین حقیقت بن جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے مرکزی رہنما علی محمد خان مذاکرات کے حوالے سے کھل کر بول پڑے
تنہائی کی داستان
شمیم کے انتقال کے بعد رشید اندر سے ٹوٹ چکے تھے، مگر بچوں کے لیے زندہ رہنا ضروری تھا۔ جب ریٹائر ہوئے تو سوچا اب سکون سے وقت گزاریں گے۔ جائیداد بچوں میں برابر بانٹ دی، بغیر کسی لالچ کے۔ فہد نے بڑا بنگلہ لیا، جبران نے فلیٹ، اور نائلہ کی شادی دور کے ایک شہر میں ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: عدنان قتل کیس: سابق سینیٹر چودھری تنویر احاطہ عدالت سے گرفتار
فاصلوں کا بڑھنا
پہلے پہل سب آتے جاتے رہے، پھر آہستہ آہستہ فاصلے بڑھنے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف آپریشن “بنیان المرصوص” کی کامیابی کی سلسلے میں واشنگٹن میں تقریب، فتح کا کیک بھی کاٹا گیا
بچوں کی ذمہ داریاں
ایک دن فہد آیا، اور بولا:
"ابو، آپ ہمارے ساتھ چلیں، مگر بس ایک دو ہفتے کے لیے، ہمارے ہاں مہمان آ رہے ہیں، آپ کو پھر جبران کے پاس جانا ہوگا۔"
جبران کے ہاں گئے، تو چند دن بعد وہ بھی شرمندہ سا کہنے لگا:
"ابو، آپ کو تو معلوم ہے، بچے بڑے ہو گئے ہیں، کمرے کم پڑتے ہیں۔ بہتر ہوگا آپ نائلہ کے پاس کچھ دن رہ لیں۔"
نائلہ، جس نے بچپن میں سب سے زیادہ باپ سے محبت کی تھی، اب اپنے سسرال میں مجبور تھی۔ شوہر تنگ دل انسان تھا، بوڑھے سسر کو ساتھ رکھنے کے حق میں نہ تھا۔ وہ بھی فون پر صرف اتنا بولی:
"ابو، دعا کیجیے حالات بدلیں… میں آپ کو لینے ضرور آؤں گی۔"
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے ایران کے ٹی وی سٹیشن پر حملہ کردیا
اجنبی گھر
اور یوں رشید اپنے ہی گھر کے ایک سنسان کمرے میں رہ گیا۔ جس گھر کی بنیاد اس نے رکھی تھی، وہی اب اس کے لیے اجنبی ہو چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 1600 سال پرانا لوہے کا وہ ستون جس پر آج تک زنگ نہیں لگا، توپ کا گولہ بھی اسے نہ گراسکا
یادیں اور سوالات
وقت گزرتا گیا۔ رشید خاموش ہوتا گیا۔ ایک دن آم کے پیڑ کے نیچے بیٹھے، اس نے بیوی کی تصویر کو دیکھا اور کہا:
"شمیم، ہم نے جو بیج بویا تھا، وہ سایہ کیوں نہ دے سکا؟ کیا ہم نے کچھ غلط کیا تھا؟"
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے صنعتوں اور کسانوں کے لیے پیکج کا اعلان کردیا، رعایتی قیمت پر اضافی بجلی ملے گی
اندھیری رات
اُس رات بارش بہت تیز تھی۔ بجلی گئی ہوئی تھی۔ کمرے میں اندھیرا تھا، مگر رشید کی آنکھوں میں جو اندھیرا اُتر چکا تھا، وہ کسی روشنی سے ختم نہ ہو سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان، انڈیکس ایک ہزار سے زائد پوائنٹس تک گر گیا
نئی امید
صبح دروازے پر دستک ہوئی۔ رشید کو یقین نہ آیا۔ کب سے تو دروازہ کوئی نہیں کھٹکھٹاتا تھا۔ جیسے ہی دروازہ کھولا، سامنے نائلہ کھڑی تھی — بھیگی ہوئی، آنکھوں میں آنسو، ہاتھ میں دوائیوں کا تھیلا، اور دل میں پچھتاوا.
"ابو... دیر ہو گئی، لیکن شاید بہت دیر نہیں ہوئی۔ میں آپ کو لینے آئی ہوں۔"
رشید اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ اس کے لب ہلے:
"رشتے خون کے ہوتے ہیں، مگر جب خون بےوفائی سے آلودہ ہو جائے، تو وہ رشتے زہر بن جاتے ہیں، نائلہ۔"
نائلہ نے باپ کے ہاتھ تھام لیے:
"ابو، خون میں زہر آ جائے تو علاج ممکن ہے۔ میں وہ علاج بننا چاہتی ہوں۔"
یہ بھی پڑھیں: چین کا یکم مئی سے افریقی ممالک کے لیے ٹیرف ختم کرنے کا اعلان
محبت کی نشانی
رشید کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ برسوں بعد کسی نے اس کا ہاتھ یوں محبت سے تھاما تھا۔
شاید وہ مکمل تنہا نہیں تھا۔
شاید رشتوں کا خون ہوا تھا لیکن دل ابھی زندہ تھا۔
نوٹ
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








