دہشت گردی کی روک تھام: پاکستان اور افغانستان میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا

مذاکرات کا تیسرا دور

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور آج استنبول میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: معرکۂ حق میں مودی سرکار کو وہ سبق سکھایا ہے جو وہ کبھی نہیں بھولے گی، بھارت یہ شکست کبھی فراموش نہیں کر سکے گا، وزیرِ اعظم شہباز شریف

اجلاس کی تفصیلات

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں دونوں ممالک جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیں گے اور ایک نگرانی و تصدیقی نظام قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جو جنگ بندی کی خلاف ورزی پر کارروائی یقینی بنائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کا پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مالی معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ

پاکستان کا مؤقف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا وفد مذاکرات کے لئے جا چکا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی نہ ہو۔ مذاکرات میں پیش رفت کا امکان ہوتا ہے تبھی بات کی جاتی ہے، اگر پیش رفت کا امکان نہ ہو تو پھر وقت کا ضیاع ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیازی خاندان کی جانب سے بسنت منانے پر وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا رد عمل آ گیا

افغان طالبان کی ذمہ داریاں

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا ایک ہی مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے بند کیے جائیں، امید ہے خطے میں قیام امن کے لیے افغان طالبان دانش مندی سے کام لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا آئندہ ہفتے دورہ سعودی عرب کا امکان

استنبول مذاکرات کی صورتحال

ذرائع کے مطابق استنبول مذاکرات کے دوسرے دور میں فریقین کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی بیٹر میتھیو ویڈ نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا

طالبان وفد کی تشکیل

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ وفد میں طالبان حکومت کے انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق، نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب، دوحہ میں طالبان حکومت کے سفیر سہیل شاہین کے علاوہ انس حقانی، عبدالقہار بلخی اور دیگر شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مریدکے میں جس مسجد پر حملہ ہوا وہاں کیا تھا اور مقامی لوگ اتنے غصے میں کیوں ہیں؟ الجزیرہ کی رپورٹ نے حقیقت دنیا کو دکھا دی

پچھلے مذاکرات کی ناکامی

یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی تھی جب 11 اکتوبر کی رات افغانستان کی جانب سے پاکستانی سرحد پر حملے کیے گئے۔ بعد ازاں 19 اکتوبر کو دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا، جس کے بعد ترکیہ اور قطر کی کوششوں سے فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی محمد آصف کو تیسری بار ورلڈ سنوکر چیمپئن بننے پر مبارکباد

درمیانی مذاکرات کا عدم کامیابی

اس سے قبل پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور 25 اکتوبر کو استنبول میں ہوا، طویل اور اعصاب شکن مذاکرات کا یہ دور افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے ایک نکاتی پاکستانی مطالبے کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔

مذاکرات کے دوران کی مشکلات

ان مذاکرات کے دوران افغان وفد بار بار کابل اور قندہار سے ہدایات لیتا اور دوسروں کا وقت ضائع کرتا رہا۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستانی وفد وطن واپسی کے لیے روانہ ہوا تو استنبول ائیرپورٹ سے ترکیے کی درخواست پر مذاکرت کو ایک آخری موقع دینے کے لیے پھر واپس ہوا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...