دہشت گردی کی روک تھام: پاکستان اور افغانستان میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا
مذاکرات کا تیسرا دور
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور آج استنبول میں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: یونان کا پہلگام واقعہ کی شفاف تحقیقات کیلئے پاکستانی تجویز کا خیرمقدم
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں دونوں ممالک جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیں گے اور ایک نگرانی و تصدیقی نظام قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جو جنگ بندی کی خلاف ورزی پر کارروائی یقینی بنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایس سی او کانفرنس کا پاکستان میں انعقاد: کامیاب خارجہ پالیسی کی عکاسی
پاکستان کا مؤقف
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا وفد مذاکرات کے لئے جا چکا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی نہ ہو۔ مذاکرات میں پیش رفت کا امکان ہوتا ہے تبھی بات کی جاتی ہے، اگر پیش رفت کا امکان نہ ہو تو پھر وقت کا ضیاع ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے انٹرنیشنل کرکٹر پر منشیات کے استعمال پر پابندی لگا دی
افغان طالبان کی ذمہ داریاں
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا ایک ہی مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے بند کیے جائیں، امید ہے خطے میں قیام امن کے لیے افغان طالبان دانش مندی سے کام لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فلڈ ریلیف آپریشن کے دوران انتقال کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر فرقان احمد کو سول ایوارڈ دینے کا فیصلہ
استنبول مذاکرات کی صورتحال
ذرائع کے مطابق استنبول مذاکرات کے دوسرے دور میں فریقین کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے دونوں سینیٹرز استعفیٰ دیں ورنہ پارٹی سے برطرف کر دیں گے : اختر مینگل
طالبان وفد کی تشکیل
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ وفد میں طالبان حکومت کے انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق، نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب، دوحہ میں طالبان حکومت کے سفیر سہیل شاہین کے علاوہ انس حقانی، عبدالقہار بلخی اور دیگر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کی کارروائی، لیبیا کشتی حادثے کے اہم ملزم بشیر احمد کو گرفتار کر لیا گیا
پچھلے مذاکرات کی ناکامی
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی تھی جب 11 اکتوبر کی رات افغانستان کی جانب سے پاکستانی سرحد پر حملے کیے گئے۔ بعد ازاں 19 اکتوبر کو دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا، جس کے بعد ترکیہ اور قطر کی کوششوں سے فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے۔
یہ بھی پڑھیں: بابا گورو نانک دیو جی کا 556واں جنم دن، 30 ہزار یاتری ننکانہ صاحب آئیں گے،سی سی ٹی وی کیمرے نصب، 3 کنٹرول رومز قائم
درمیانی مذاکرات کا عدم کامیابی
اس سے قبل پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور 25 اکتوبر کو استنبول میں ہوا، طویل اور اعصاب شکن مذاکرات کا یہ دور افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے ایک نکاتی پاکستانی مطالبے کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔
مذاکرات کے دوران کی مشکلات
ان مذاکرات کے دوران افغان وفد بار بار کابل اور قندہار سے ہدایات لیتا اور دوسروں کا وقت ضائع کرتا رہا۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستانی وفد وطن واپسی کے لیے روانہ ہوا تو استنبول ائیرپورٹ سے ترکیے کی درخواست پر مذاکرت کو ایک آخری موقع دینے کے لیے پھر واپس ہوا۔








