دہشت گردی کی روک تھام: پاکستان اور افغانستان میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا
مذاکرات کا تیسرا دور
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور آج استنبول میں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سڑک پر ٹریفک بلاک، میٹنگ میں پہنچنے کے لیے پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو بلال بن ثاقب موٹرسائیکل والے سے لفٹ مانگ کر روانہ ہوگئے، لوگ سادگی کی داد دینے پر مجبور
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں دونوں ممالک جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیں گے اور ایک نگرانی و تصدیقی نظام قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جو جنگ بندی کی خلاف ورزی پر کارروائی یقینی بنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ای ٹی سی لاہور کے جج کا 9 مئی کے مقدمات جلد نمٹانے کا فیصلہ
پاکستان کا مؤقف
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا وفد مذاکرات کے لئے جا چکا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی نہ ہو۔ مذاکرات میں پیش رفت کا امکان ہوتا ہے تبھی بات کی جاتی ہے، اگر پیش رفت کا امکان نہ ہو تو پھر وقت کا ضیاع ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہریار آفریدی کی تھانہ سبزی منڈی کے مقدمے میں 29 اپریل تک ضمانت منظور
افغان طالبان کی ذمہ داریاں
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا ایک ہی مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے بند کیے جائیں، امید ہے خطے میں قیام امن کے لیے افغان طالبان دانش مندی سے کام لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سپین میں طوفانی بارشوں سے 202 ہلاک، سینکڑوں افراد لاپتہ
استنبول مذاکرات کی صورتحال
ذرائع کے مطابق استنبول مذاکرات کے دوسرے دور میں فریقین کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی کا اڈیالہ پولیس کے خلاف تحریک استحقاق لانے کا اعلان
طالبان وفد کی تشکیل
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ وفد میں طالبان حکومت کے انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق، نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب، دوحہ میں طالبان حکومت کے سفیر سہیل شاہین کے علاوہ انس حقانی، عبدالقہار بلخی اور دیگر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس یحییٰ آفریدی کا بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ میں پہلا دن، سوا گھنٹے میں 30 مقدمات کی سماعت کی
پچھلے مذاکرات کی ناکامی
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی تھی جب 11 اکتوبر کی رات افغانستان کی جانب سے پاکستانی سرحد پر حملے کیے گئے۔ بعد ازاں 19 اکتوبر کو دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا، جس کے بعد ترکیہ اور قطر کی کوششوں سے فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: جھانسہ دیکر خاتون سے جنسی زیادتی کرنے والا نائجیرین شہری گرفتار
درمیانی مذاکرات کا عدم کامیابی
اس سے قبل پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور 25 اکتوبر کو استنبول میں ہوا، طویل اور اعصاب شکن مذاکرات کا یہ دور افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے ایک نکاتی پاکستانی مطالبے کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔
مذاکرات کے دوران کی مشکلات
ان مذاکرات کے دوران افغان وفد بار بار کابل اور قندہار سے ہدایات لیتا اور دوسروں کا وقت ضائع کرتا رہا۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستانی وفد وطن واپسی کے لیے روانہ ہوا تو استنبول ائیرپورٹ سے ترکیے کی درخواست پر مذاکرت کو ایک آخری موقع دینے کے لیے پھر واپس ہوا۔








