فلم کے دوران ڈائریکٹر نے ہراساں کیا اور بیڈ تک آگیا، فرح خان کا کئی سال بعد انکشاف
فرح خان کی تلخ یادیں
ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) فرح خان کو بالی وڈ میں چار دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ایک تلخ یاد اب بھی ان کے ذہن میں نقش ہے جب ایک فلم میکر نے انہیں ہراساں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: انسداد انتہا پسندی، شائستگی اور دیانت پر سیمینار
کامیابی کی راہ میں مشکلات
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم ساز سے کوریوگرافر بننے والی فرح نے ٹوئنکل اور کاجول کے پروگرام میں کافی موضوعات پر گفتگو کی، اسی شو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک فلم کے دوران ڈائریکٹر نے انہیں جنسی ہراساں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: معصوم لوگوں کا خون بہانا جہاد نہیں فساد ہے: حافظ طاہر محمود اشرفی
واقعہ کا تفصیلات
انہوں نے بتایا کہ میں اس ڈائریکٹر کی فلم میں کوریوگرافی کررہی تھی، اسی دوران میں اپنے کمرے میں گئی اور بستر پر بیٹھی تھی، وہ فلم ساز گانے پر گفتگو کرنے میرے کمرے میں آیا اور بالکل پاس بیٹھ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 1929ء میں بنے والٹن ٹریننگ سکول کی شہرت جلد بیرون ملک جا پہنچی وہاں کے ریلوے محکموں نے بھی اپنا عملہ تربیت کیلیے یہاں بھجوانا شروع کر دیا
ذاتی حفاظتی اقدام
فرح خان نے مزید کہا کہ اس نازیبا حرکت پر مجھے فوری طور پر اسے اپنے کمرے سے نکالنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ کو تشدد کا آئینی اختیار حاصل ہے: سہیل وڑائچ
کام کی ضرورت اور مالی پریشانی
فرح خان نے دوران انٹرویو میں کہا کہ مجھے ہر حال میں کام کرنا تھا، کیونکہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے اور اب میرا یہ ذہن ہے کہ میں اتنے پیسے کماؤں کہ میرے بچوں کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔
ٹوئنکل کھنہ کا بیان
اس منظر کی عینی شاہد ٹوئنکل کھنہ نے واقعے پر مزید کہا کہ وہ فلم ساز فرح کے پیچھے پڑا تھا، فرح کو چاہیے تھے کہ اسے مارتی پیٹتی، میں اس واقعے کی گواہ ہوں، ایسا واقعی ہوا تھا۔








