لاہور ہائی کورٹ نے مبینہ اغوا شدہ خاتون کو زندہ یا مردہ برآمد کر کے پیش کرنے کا حکم دیدیا
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ طور پر اغوا کی گئی خاتون کو زندہ یا مردہ برآمد کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میری تنخواہ میں اضافے سے متعلق مجھ سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، چیئرمین سینیٹ
خواتین کی بازیابی کی درخواست
’’جنگ‘‘ کے مطابق کاہنہ سے مبینہ طور پر اغوا کی گئی خاتون، فوزیہ کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ’’حیرت ہے کہ آپ سے ایک خاتون ریکور نہیں ہو رہی، فوزیہ کا سراغ اس کے گھر سے ملے گا‘‘۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں آرٹیفیشل جیولری کو طلائی زیورات بنا کر فروخت کرنے والے نوسر باز میاں بیوی گرفتار
آئی جی پنجاب کی وضاحت
آئی جی پنجاب نے کہا کہ انہیں چاروں صوبوں اور گینگز کو چیک کرنے کی مہلت دیں، فوزیہ بی بی جاتے ہوئے خود سامان پیک کر کے لے گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کروڑوں روپے کی عدم ادائیگی، روس نے پاکستان پوسٹ کی خدمات پر پابندی عائد کر دی
تحقیقات کا جائزہ
چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے خدشہ ظاہر کیا کہ فوزیہ کو جن اٹھا کر لے گئے۔
آئی جی نے کہا کہ 109 فون نمبرز کی سی ڈی آر لے کر چیک کیا جن سے فوزیہ کی ساس کے رابطے تھے، فوزیہ پر گھر میں تشدد کیا جاتا رہا اور خدشہ ہے کہ فوزیہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔
عدالت کی جانب سے مہلت
لاہور ہائیکورٹ نے خاتون کی بازیابی کے لیے آئی جی پنجاب کو مہلت دے دی۔








