27ویں ترمیم میں صوبائی خود مختاری کو چھیڑا گیا تو مسائل پیدا ہوں گے، بیرسٹر گوہر۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی 27ویں ترمیم پر رائے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ 27ویں ترمیم میں صوبائی خود مختاری کو نہیں چھیڑا جائے، صوبوں نے اپنے قوانین بنا رکھے ہیں اس میں عمل دخل دینے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسیر پی ٹی آئی رہنماؤں کی مسئلہ فلسطین پر کثیرالجماعتی کانفرنس بلانے کی تجویز
آئینی ترمیم کی مخالفت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم 27 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے، ابھی تک ہمیں معلوم نہیں اس 27 ویں آئینی ترمیم کا کیا ڈرافٹ ہے، 26 ویں آئینی ترمیم میں بھی جو ڈرافٹ ہمارے ساتھ شیئر کیا گیا وہ پیش نہیں کیا گیا اس کا میں نے باقاعدہ مولانا صاحب کو بھی بتایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: موٹرویز پر ٹول ٹیکس 100 فیصد سے بھی زائد بڑھنے کا انکشاف
پنجاب حکومت کی کارکردگی
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے پاس اربوں روپے کا بجٹ ہے، میڈیا کیمرا لے کر باہر نکلیں دیکھیں کوئی بندہ ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: فلیگ شپ پروگرام کے تحت اقلیتی مذہبی مقامات کی بحالی و تحفظ کے منصوبے کا افتتاح
آئینی تبدیلی کا موقف
انہوں نے کہا کہ اس پارلیمان کے پاس استحقاق نہیں کہ یہ آئین میں کوئی تبدیلی کریں، ہمارے پاس 91 نشستیں تھیں، پہلے تین نشستیں لیں پھر آٹھ لے لیں اس کے بعد ہماری مخصوص نشستیں بھی لے لیں، آپ تب تک آئین میں ترمیم نہیں کر سکتے جب تک آپ کے پاس اصل دو تہائی اکثریت نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے سکھ یاتریوں کو گرو ارجن دیوجی کے شہیدی دن کی رسومات کے لیے پاکستان آنے سے روک دیا
این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی
انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، ہم سمجھتے ہیں کہ اس ترمیم سے وفاق اور صوبے سب متاثر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: احتجاج کرنا ہر شہری کا حق، لیکن کوئی ہمیں بلیک میل نہیں کر سکتا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
عمران خان کی قانونی صورتحال
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کو قید میں دو سال سے زائد ہو گئے، پانچ دن کے اندر اندر ان کو تین سزائیں دی گئیں، یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ لوگ انہیں بھول جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا، خان صاحب کو ضمانت مل گئی تو انہیں سائفر کیس میں گرفتار کرلیا گیا، اب توشہ خانہ اور عدت والا کیس ہے، اگر عدالتیں انصاف پر فیصلہ کریں تو خان صاحب رہا ہوں گے خان صاحب کی رہائی جب بھی ہوئی قانون کے تحت ہو گی کسی ڈیل کے تحت نہیں ہوگی، جو کچھ بھی ہوگا عدلیہ کے ذریعے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: صنعتی اور مائنز ورکرز کے بچوں کے لئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم کا اعلان
شاہ محمود قریشی سے ملاقات
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں آج شاہ محمود قریشی سے ملاقات کرنے جاؤں گا، لاہور ہائی کورٹ میں ہماری دو پٹیشنز ابھی تک التوا میں ہیں، آج ہم نے درخواست دینی تھی کہ ان پٹیشنز کو سن لیں لوکل باڈی الیکشن بھی آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہونڈا 125 کی فیول ایوریج کو بہتر بنانے کے مفید مشورے
پارٹی کی تحریک اور خان صاحب
ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے پارٹی اور جمہوریت کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، ہم تحریک چلا رہے ہیں اور ہماری تحریک پہلے بھی چل رہی تھی، ابھی خان صاحب کی طرف سے نومبر میں کسی احتجاج کی کوئی کال نہیں ہے۔
خان صاحب کی رہائی کے لئے کوششیں
انہوں نے مزید کہا کہ جو ہم کوشش کر رہے ہیں خان صاحب کی رہائی کے لیے اس سے خان صاحب مطمئن ہیں، خان صاحب پارٹی سے مطمئن ہیں، ہم کوئی گوریلا فورس نہیں، نہ ہی ہم کسی بیرون ملک طاقت کے منتظر ہیں کہ خان صاحب کو رہا کروالیں۔








