سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، ایک کے بجائے چار چار سینیٹرز کے ساتھ سائبر فراڈ کا انکشاف
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سینیٹرز اپنے ساتھ ہونے والے فراڈز پر پھٹ پڑے۔ 4 سینیٹرز کے ساتھ سینیٹر بلال خان مندوخیل، سینیٹر سیف اللہ ابڑو، سینیٹر دلاور خان اور سینیٹر فلک ناز چترالی کے ساتھ سائبر فراڈ ہونے کا انکشاف ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب گرین پروگرام : بڑے پیمانے پر شجرکاری اور ماحولیاتی منصوبوں کا آغاز، 24 گھنٹے مانیٹرنگ کی جائے گی
اجلاس کی قیادت
ایکسپریس نیوز کے مطابق اجلاس کی سربراہی چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم رحمانی نے کی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے بتایا کہ مجھے بھی فراڈیوں کی کال آئی، ہیکرز نے مختلف اراکین پارلیمنٹ کو آن لائن فراڈ کے ذریعے لاکھوں روپے کا چونا لگایا۔
یہ بھی پڑھیں: سود کے بغیر آسان قسطوں پر 150سی سی موٹر سائیکل حاصل کریں
فراڈ کی نوعیت
سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مطابق ہیکرز کا یہ گروہ صرف پانچ یا ساڑھے پانچ لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کرتا ہے۔ ہیکرز نے سینیٹر فلک ناز چترالی، قادر مندوخیل اور سیف اللہ ابڑو کو چکرا کر رکھ دیا۔ ہیکرز ٹیلی فون کالز کے ذریعے سینیٹرز کو مکمل ڈیٹا بتا کر لاکھوں روپے کا چونا لگا گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم ، پی ٹی آئی نے اچانک یوٹرن کیوں لیا؟
مالی نقصان
سینیٹر دلاور خان سے ساڑھے 8 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے جبکہ سینیٹرز فلک ناز چترالی سے دو قسطوں میں ہیکرز پانچ لاکھ کا فراڈ کر گئے۔ خاتون سینیٹر کو فیصل نام کے بندے نے کال کرکے پیسے بٹورے۔
یہ بھی پڑھیں: میں مرنے والوں کے لیے آخری کھانے بناتا ہوں
ہیکر کی حکمت عملی
سینیٹر فلک ناز چترالی نے انکشاف کیا کہ ہیکرز نے کونسلنگ سینٹر بنانے کے نام پر کال کے ذریعے فراڈ کیا، ہیکرز کے پاس خاندان اور بچوں سے متعلق مکمل ڈیٹا موجود تھا۔
شکایات کا اثر
ممبر سینیٹ داخلہ کمیٹی نے بتایا کہ این سی سی آئی اے میں شکایات کے باوجود کوئی شنوائی نہ ہوئی۔








