وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے لیے قانونی مسودے کا خاکہ تیار کرلیا
اسلام آباد میں آئینی ترامیم کا خاکہ تیار
وفاقی حکومت نے ستائیسویں ترمیم کے لیے قانونی مسودے کا خاکہ تیار کرلیا، جس کے مطابق سپریم کورٹ میں آئینی بنچ کی جگہ 9 رکنی آئینی عدالت قائم کی جائے گی۔ سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے ججوں کی عمر کی بالائی حد 68 سے 70 سال تک کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابقہ بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ کی سزائے موت کے فیصلے پر بھارت کا ردعمل بھی آگیا
چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کا پانی
ایکسپریس نیوز کے مطابق مسودے کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے تقرر میں ڈیڈ لاک کی صورت میں معاملہ سپریم جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے گا۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری میں صدر، وزیراعظم کا کردار کم کر کے جوڈیشل کمیشن کا بڑھایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ صرف اتحادی نہیں ایمان، ثقافت اور تاریخ میں جُڑے بھائی ہیں :وزیراعلیٰ مریم نواز کی ترکیہ کے سفیر عرفان نذیراوغلو سے ملاقات، اہم امور پر گفتگو
بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں مخالفت
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی بلدیاتی اداروں کو آئینی طور پر مزید بااختیار بنانے پر تیار نہیں، بلدیاتی اداروں کو مزید اختیارات دینے کے حوالے سے تجویز پر مزید مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیپ بال کرکٹ میچ: نوجوان بیٹر چھکا مارتے ہی دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا
فیلڈ مارشل کے عہدے کا آئینی تحفظ
ذرائع نے بتایا کہ آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل کو آئینی اختیارات بھی دیئے جائیں گے، مجوزہ آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل کا ٹائٹل تاحیات رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کام کاج چھوڑ کر جاتے ہیں، نادرا کا رویہ بالکل ٹھیک نہیں: سندھ ہائیکورٹ برہم
این ایف سی ایوارڈ میں ممکنہ تبدیلیاں
ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم کے تحت این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کو صوبوں کے شیئر سے مزید دس فیصد حصہ دینے کی تجویز ہے، جب کہ تعلیم اور صحت کے شعبے وفاق کو دینے پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔
ترمیمی بل کی منظوری کے مراحل
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے خاکے پر اتحادیوں سے صلاح و مشورے کیے ہیں۔ کل وفاقی کابینہ کے اجلاس سے مسودے کی منظوری کے بعد ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔








