پی ٹی آئی 27ویں آئینی ترمیم کو منفی رنگ دے رہی ہے، عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات کی وضاحت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں 18ویں ترمیم کو کوئی نہیں چھیڑ رہا، مجسٹریسی نظام بحال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 27ویں آئینی ترمیم کو منفی رنگ دے رہی ہے، پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ کا انتہائی غیر سنجیدہ کردار ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی متنازع بات کرکے مشہوری چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگر بھارت جنگ چھیڑتا ہے تو نورا فتحی اور کٹرینا کیف کو وہاں سے لائیں گے، پاکستانی تیار ہیں
تعلیم اور آبادی کی پالیسی
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور آبادی پر ملک بھر میں ایک پالیسی درکار ہے، تعلیم اور آبادی سے متعلق تجاویز ہیں جن پر بات ہوتی ہے۔ چوہدری شجاعت کی پرانی تجویز تھی کہ تعلیم کو وفاق کے پاس رہنے دیں، پارلیمنٹ میں ایک ایک تجویز پر بات چیت ہوگی اور ہر معاملہ زیر بحث لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں وقت اور حالات کے مطابق ترمیم ہوتی رہتی ہے، آئینی عدالت کی بات ملک میں سالوں سے چل رہی ہے اور کتنا وقت درکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صبح کی سیر نشہ ہی نہیں زندگی کا بہت بڑا جادو ہے،باغات میں تازہ پھول اور کلیاں کھلتے دیکھ کر انسانی نظریں تیز اور دِل و دماغ تازہ ہو جاتے ہیں
مجسٹریسی نظام کی بحالی
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ میٹنگز میں شامل رہا، آج لگا کہ 27ویں ترمیم کی راہ میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے۔ مجسٹریسی نظام نیا نہیں بلکہ ملک میں رائج رہا ہے جسے بحال کیا جا رہا ہے۔ کابینہ کا اجلاس روٹین میں ہر ہفتے ہوتا ہے، پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے بعد معاملہ کابینہ میں لے جانے کا فیصلہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام سے متعلق ایم کیو ایم کا پرانا مطالبہ ہے، کچھ معاملات پر سالوں اور کچھ پر مہینوں سے بحث جاری ہے۔
افغانستان کے الزامات کا جواب
اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں، امید ہے کہ پاک افغان مذاکرات سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ہمارا ایک مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی نہ ہو۔








