ٹیکس چھپانے اور ڈیجیٹل نظام نہ اپنانے پر ’کابل ریسٹورنٹ‘ کا اوپن ایریا سیل کر دیا گیا
اسلام آباد: کابل ریسٹورنٹ کیخلاف کارروائی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) میں ٹیکس چوری کرنے والے ’کابل ریسٹورنٹ‘ کیخلاف شہریوں کی شکایات پر نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے نے سخت ایکشن لیا۔ ڈیجیٹل نظام نہ اپنانے پر ریسٹورنٹ کے اوپن ایریا کو سیل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جائیداد کے تنازعے پر روزہ دار حاملہ بہن سوتیلے بھائی کے ہاتھوں قتل
کیش ٹرانزیکشنز کا انکار
تفصیلات کے مطابق کابل ریسٹورنٹ ٹیکس چھپانے کیلئے شہریوں سے ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ سے پیسے وصول کرنے سے مسلسل انکار کرتا رہتا تھا اور کیش میں رقم ادا کرنے کا اصرار کرتا تھا۔ اس کے نتیجے میں کابل ریسٹورنٹ کے اوپن اسپیس کو نقدی کے بجائے ڈیجیٹل نظام نہ اپنانے پر سیل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کو خشک راشن کی فراہمی بھی شروع
سی ڈی اے کا سخت فیصلہ
ریسٹورنٹ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل وارننگز کے باوجود کیش ٹرانزیکشنز پر اصرار کیا جا رہا تھا، جس کے باعث سی ڈی اے نے ایکشن لیتے ہوئے کارروائی کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق اسلام آباد کے تجارتی مراکز اور ریسٹورنٹس کو ڈیجیٹل اور کیش لیس سسٹم اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ٹیکس شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: باغوں کا شہر لاہور پھر آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست
باقی کاروباری اداروں کی نگرانی
اسلام آباد میں دیگر ریسٹورنٹس اور کاروباری اداروں کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کیش لیس معیشت کے فروغ کے حکومتی اقدامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے اپنے بچوں کو پاکستان آنے سے روکنے پر خواجہ آصف کا ردِعمل
سوشل میڈیا پر صارفین کے رد عمل
ٹویٹر صارف شاہد خان نے ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے کابل ریسٹورنٹ کے بارے میں حیران کن انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک افغانی نے ان سے کہا کہ 'ہم پاکستان کو ٹیکس کیوں دیں؟' جب انہوں نے کیش کے بجائے کارڈ استعمال کرنے کی وجہ پوچھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر ہزاروں افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجنے کا فیصلہ
کابل ریسٹورنٹ کے حالات
صارف کا کہنا تھا کہ 'کابل ریسٹورنٹ' اسلام آباد کے ایف سکس مرکز میں واقع ہے جہاں اتنا رش ہوتا ہے کہ لاکھوں کی سیل روزانہ ہوتی ہے۔ حالانکہ کھانا بدمزہ تھا، لیکن پیسے صرف کیش میں ہی لیے جاتے ہیں۔ ہر بل پر 10٪ سروس چارجز بھی لیے جاتے ہیں۔
سوالات
کیا پاکستانی ایف سکس کے 'کابل ریسٹورنٹ' کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں؟ اور کیا کوئی پاکستانی افغانستان کے دارلخلافہ کابل میں 'اسلام آباد' ریسٹورنٹ کھول سکتا ہے جہاں وہ دھڑلے سے کہہ سکے کہ وہ افغانستان کو کوئی ٹیکس نہیں دیں گے؟
Kabul Restaurant open space sealed for not adhering to cashless SOPs.
Let’s move towards digitisation and cashless economy
Good work by MCI @dranamfatima @CDAthecapital @ShazaFK https://t.co/ygUGZ7WGWy pic.twitter.com/7PJVGtQMNi— Muhammad Ali Randhawa (@RandhawaAli) November 7, 2025








