مخصوص ڈرامے بنانے کے لئے مغرب سے فنڈنگ آتی ہے: محمود اختر کا دعویٰ
محمود اختر کا دعویٰ
لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے سینئر اداکار محمود اختر نے دعویٰ کیا ہے کہ مخصوص موضوعات پر ڈرامے بنانے کے لیے مغرب سے فنڈنگ آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے ساتھ عام شہری بھی شامل ہوجاتے، بسکٹ، پکوڑے، چپس بنوا کر لاتے اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے فوجیوں کا آتے جاتے استقبال کرتے
ماضی اور حال میں فرق
نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں انٹرویو کے دوران محمود اختر نے کہا کہ پہلے کے دور اور اب کے دور میں بہت فرق ہے، تقریباً ہر چیز ہی تبدیل ہوچکی ہے لیکن پہلے کے زمانے کی ایک بات یہ ہے کہ تب ڈرامہ بہت اچھا لکھا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا کام صرف مذمت کرنا نہیں بلکہ پالیسی بنا کر دہشت گردی کے اسباب اور ان واقعات کی مستقل روک تھام ہے، حافظ نعیم الرحمان
ڈائجیسٹ کا اثر
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ڈائجیسٹ آیا، جس نے بہت خرابیاں پیدا کیں اور کہانیوں کا بیڑہ غرق کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک روز بڑی کمی کے بعد سونا آج پھر مہنگا ہوگیا
مغربی فنڈنگ کا مسئلہ
محمود اختر کا کہنا تھا کہ ایک مسئلہ، جسے میں کہوں گا کہ بہت بڑا گھوٹالا ہے، وہ یہ کہ بہت زیادہ پیسہ مغرب کا آ رہا ہے، کچھ مخصوص موضوعات پر ڈرامے بنانے کے لیے مغرب فنڈنگ کر رہا ہے۔
معاشرتی اثرات
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے۔ اس سے ہماری نسلیں خراب ہو رہی ہیں کیونکہ فنڈز آتے ہیں کہ اس طرح کے موضوعات شروع کیے جائیں اور کسی کے کان پر جُوں تک نہیں رینگتی۔ سوچیں اگر ایسا ہی چلتا رہا تو کل کو ہمارا معاشرہ کس نہج پر ہوگا۔








