دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی باری آ گئی، لاہور ہائیکورٹ نے کارروائی کا حکم دیدیا

دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کا دور آ گیا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے ان گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بابوسر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں کئی سیاح بہہ کر لاپتا، تین افراد جاں بحق

عدالت کی سماعت

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیس کی سماعت کی، جس کے دوران متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: تمام ججز نے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کی قسم اٹھائی ہے، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

جسٹس شاہد کریم کی ہدایات

’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق، دوران سماعت جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ ’’سڑک پر آئیں تو دھواں چھوڑنے والی درجنوں گاڑیاں نظر آتی ہیں، پنجاب میں آلودگی روکنے کے لیے سخت انتظامات کریں۔’’

یہ بھی پڑھیں: ویڈیو لیک ہونے کے بعد کنول شو زب کا رد عمل بھی سامنے آگیا

درختوں کی کٹائی کا معاملہ

وکیل درخواست گزار نے غالب مارکیٹ پارک میں درخت کاٹے جانے اور ٹینس کورٹ بنائے جانے سے عدالت کو آگاہ کیا۔ جس پر جسٹس شاہد کریم نے سوال اٹھایا کہ ’’درخت کیوں اور کیسے کاٹے جا سکتے ہیں؟ پارکس میں پیڈل ٹینس کورٹس بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔’’

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بچوں کی بات صرف مرچ مصالحہ لگانے کیلئے کی گئی، تحریک کامیاب ہونا ممکن نہیں: شیر افضل مروت

عدالتی حکم

عدالت نے غالب مارکیٹ پارک میں تعمیرات روکنے کا حکم دیا اور ڈی جی پی ایچ اے کو عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

کیس کی سماعت کی تاریخ

لاہور ہائیکورٹ نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا اور کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...