وزیراعلیٰ کا منصب بہت ہی سنجیدگی کا متقاضی ہے، ٹکراؤ کسی بھی صورت مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا، ایمل ولی خان
ایمل ولی خان کا وزیراعلیٰ کے منصب پر بیان
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان کا کہنا ہے وزیراعلیٰ کا منصب بہت ہی سنجیدگی کا متقاضی ہے۔ ٹکراؤ کسی بھی صورت مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا، اور پھر یہ تو خیرپختونخوا جیسے بدقسمت صوبے کے بالکل حق میں نہیں کہ اس صوبے کا چیف ایگزیکٹو ٹکراؤ کی طرف جائے۔
یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی ہاﺅسنگ سکیموں کو ایمنسٹی دینے پر غور کرنا ہوگا: وزیر اعلیٰ پنجاب
مینڈیٹ کا احترام اور ذمہ داری
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ مقتدر حلقے بھی مینڈیٹ کا احترام کریں اور صوبے کے وزیراعلیٰ کا جو پروٹوکول ہے وہ سہیل آفریدی کا حق ہے جو اسے ملنا چاہیے۔ لیکن وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کی جانب سے بھی ذمہ داری کا احساس لازم ہے۔ وزیراعلی کی جانب سے مساجد میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کتے باندھنے والے بیان کا مقصد مذہبی جذبات کو ہوا دینا اور بھڑکانا ہے۔ کوئی بھی ذی شعور شخص ایسی حرکت تو کرنا دور، اس طرح سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ بیان مساجد کی بے حرمتی کے سوا کچھ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امریکہ کی مشق انسپائرڈ گیمبٹ 2026 کا انعقاد
ٹکراؤ کی بجائے احترام کی ضرورت
ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ ایسے بیانات اداروں سے مزید ٹکراؤ کا باعث بنیں گے۔ وزیراعلیٰ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام اور ریاست کے بیچ فاصلے کم اور بداعتمادی ختم کریں نہ کہ اس میں مزید اضافہ کرے، اگر حالات اس طرح ہی رہے تو آخر ہمارے صوبے کا مستقبل کیا ہوگا؟ سہیل آفریدی صاحب اپنے لیڈر کی جنگ بھی لڑیں، لیکن وہ عدالت سے ہی ممکن ہوگی۔ آئینی جنگ لڑیں، لیکن ساتھ میں ٹکراؤ کی جگہ آئین اور قانون کا راستہ اپنائیں اور صوبے کے لیے بھی کچھ کریں۔
ٹویٹر پر ایمل ولی خان کا بیان
وزیراعلیٰ کا منصب بہت ہی سنجیدگی کا متقاضی ہے۔ ٹکراؤ کسی بھی صورت مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا، اور پھر یہ تو پختونخوا جیسے بدقسمت صوبے کے بالکل حق میں نہیں کہ اس صوبے کا چیف ایگزیکٹو ٹکراؤ کی طرف جائے۔ مقتدر حلقے بھی مینڈیٹ کا احترام کریں اور صوبے کے وزیراعلیٰ کا جو پروٹوکول ہے وہ…
— Aimal Wali Khan (@AimalWali) November 7, 2025








