اسٹیٹ بینک کی پالیسی سے حکومت پر 3 کھرب روپے کا اضافی بوجھ
اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی میں تبدیلی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے جنوری 2025 سے اب تک سود کی شرح میں صرف 1 فیصد کمی کی ہے، جس کے تحت شرح سود 12 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہر چیز کا علاج ڈنڈا نہیں ہوتا ، لوگ اس نظام سے نفرت کرتے ہیں ، تیمور سلیم جھگڑا
اوپر آتے ہوئے حقیقی شرحِ سود کے اثرات
مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نامی اکاؤنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران اوسط حقیقی شرحِ سود 8.5 فیصد کے قریب رہی، جس کے نتیجے میں 50 کھرب روپے کے ملکی قرضے پر بینکوں کو تقریباً 3 کھرب روپے اضافی سود کی ادائیگیاں کرنی پڑیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹرز نے بھی بحریہ ٹاؤن میں پروجیکٹ لانچ کر دیا، 1 اور 2 بیڈ اپارٹمنٹس، اتنے سستے جو آپ کو پورے بحریہ میں نہیں ملیں گے.
ماہرین کا تجزیہ
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ ایسی پالیسیاں حکومت کے قرض لینے کے اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں، نجی سرمایہ کاری کو محدود (Crowd Out) کرتی ہیں، اور بالآخر زیادہ ٹیکسوں کی صورت میں عوام پر بوجھ ڈالتی ہیں جس سے سست معاشی نمو اور بڑھتے ہوئے قرضوں کا ایک خطرناک چکر جاری رہتا ہے۔
مہنگائی اور دفاعی بجٹ کی موازنہ
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے نام پر ادا کیے گئے یہ 3 کھرب روپے دراصل پاکستان کے پورے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہیں۔








