اسلام آباد ہائیکورٹ میں انجینئر محمد علی مرزا کی مرکزی کیس میں فریق بننے کی متفرق درخواست منظور
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائیکورٹ نے انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف زیر سماعت کیس میں فریق بنانے کی درخواست منظور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: ایف سی ہیڈ کوارٹرز خودکش دھماکا: تینوں حملہ آوروں کے افغان شہری ہونے کی تصدیق
عدالت کی سماعت
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے انجینئر محمد علی مرزا کی متفرق درخواست پر سماعت کی۔ اس درخواست میں ان پر لگے الزامات کے خلاف ڈاکٹر اسلم خاکی کی درخواست میں فریق بننے کی استدعا کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کی قیمت کو کنٹرول کرنے کیلئے بڑا فیصلہ کر لیا گیا
وکیل کا بیان
درخواست گزار کی جانب سے حافظ محمد طاہر ایوبی ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے اور بتایا کہ درخواست پر رجسٹرار آفس کا اعتراض تھا جو دور کر دیا گیا ہے۔ ہم صرف مرکزی کیس میں فریق بننا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طیارے تباہ کروانے اور جنگ ہارنے کے بعد کہتے ہیں کہ کرکٹ میں ہاتھ نہیں ملائیں گے، عطا تارڑ
عدالت کے ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ آپ نے سادہ درخواست دے دی ہے، اس کے ساتھ کچھ بھی نہیں لگایا۔ وکیل نے جواب دیا کہ مرکزی کیس کے ساتھ دستاویزات منسلک ہیں، یہ متفرق درخواست ہے۔
سماعت کی تاریخ
عدالت نے انجینئر محمد علی مرزا کی مرکزی کیس میں فریق بننے کی متفرق درخواست منظور کر لی۔ مرکزی کیس کی سماعت 12 نومبر کو ہو گی۔








