پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں ڈیڈلاک
پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات میں ڈیڈلاک
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں ڈیڈلاک ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے امریکا میں ادویات کی قیمتوں میں کمی کے حکم نامے پر دستخط کردیئے۔
پاکستان کا اصولی موقف
اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری کیے گئے بیان میں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر قابو پانے کی ذمے داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے۔ افغان طالبان دوحہ امن معاہدے کے مطابق اپنے بین الاقوامی، علاقائی اور دوطرفہ وعدوں کی تکمیل میں اب تک ناکام رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی فضائیہ کے سربراہ حسن محمود خان کا نیول ہیڈکوارٹرز کا دورہ، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات
افغان عوام کے لیے خیر سگالی کا جذبہ
عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ افغان عوام کے لیے خیر سگالی کا جذبہ رکھتا ہے اور ان کے لیے ایک پُرامن مستقبل کا خواہش مند ہے۔ پاکستان طالبان حکومت کے ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کرے گا جو افغان عوام یا پڑوسی ممالک کے مفاد میں نہ ہوں۔ پاکستان اپنے عوام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
ترکیہ اور قطر کا شکریہ
عطاء اللّٰہ تارڑ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے مذاکرات میں ثالثی پر ترکیہ اور قطر کا شکریہ ادا کیا۔








