صرف دہلی میں سائیکل رکشاؤں کے مفلوک الحال مسلمان ڈائیوروں اور جامع مسجد کی خستہ حالی دیکھنے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 211
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت اور عثمان ہادی شہید کے قاتلوں کی سرپرستی کے خلاف احتجاج جاری
نماز مغرب کی تیاری
پروگرام کے مطابق نماز مغرب سے آدھ گھنٹہ پہلے ہمارے وفد کے تمام ارکان جامع مسجد دہلی میں موجود تھے۔ یہ مسجد مغل بادشاہ شاہجہاں کی لافانی یادگاروں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے مشہور نائٹ کلب میں گیس سلنڈر دھماکہ، 23 افراد جھلس کر ہلاک
تاریخی مساجد کی جھلک
شاہ جہان نے اپنی زندگی میں جو مساجد تعمیر کروائیں ان میں جامع مسجد دہلی کے علاوہ پشاور کی مسجد مہابت خاں، لاہور میں لاہوری گیٹ کی مسجد مریم زمانی اور مشہور بادشاہی مسجد کے علاوہ، ٹھٹھہ صوبہ سندھ کی شاہ جہانی مسجد بھی شامل ہیں جو اپنے تعمیراتی حسن اور اچھوتے پن کی وجہ سے لاثانی تصور کی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق سینیٹر عباس آفریدی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے
مسجد کی حالت
نماز میں ابھی تھوڑا وقت باقی تھا جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے مسجد کے برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر تصویریں بنوائیں۔ پھر مسجد کی صورتحال پر نظر ڈالی۔ فرش کی ٹائلیں خستہ حالت میں تھیں۔ کچھ سلیں عرصہ سے ٹوٹی ہوئی معلوم دے رہی تھیں۔ مسجد کے برآمدوں میں قرآنی خطاطی اور نقش و نگار گردش ایام کی سولی تلے ماند پڑ رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک بیوٹی انفلوئنسر لائیو سٹریم کے دوران قتل، وجہ سامنے آگئی
صفائی اور سہولیات
صفائی اور سہولیات کا وہ نظام کہیں نظر نہیں آتا تھا جو لاہور کی بادشاہی مسجد میں دیکھا جا سکتا ہے۔ صرف دہلی شہر میں ایک لاکھ سے زائد سائیکل رکشاؤں کے مفلوک الحال مسلمان ڈائیوروں اور جامع مسجد کی خستہ حالی دیکھنے سے ہی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اور ایک غلام ملک میں رہنا کتنا دشوار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا اسرائیلی خفیہ ایجنسی ‘موساد’ کے تربیت یافتہ جاسوس گرفتار کرنے کا دعویٰ
اقبالؒ کی شاعری
بقول اقبالؒ:
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں، نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے ایک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحرِ بے کراں ہے زندگی
یہ بھی پڑھیں: ہارورڈ یونیورسٹی نے انٹرنیشنل طلبہ پر پابندی کے فیصلے پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا
واپسی کا سفر
نماز مغرب کے بعد جامع مسجد سے باہر واپس پنجاب بھون جانے کے لیے نکلے۔ ایک مرتبہ پھر خواتین ممبران نے مبّرا اعجاز کے لیے ان کے نام کی سم لینے کا جواز پیش کرتے ہوئے اکٹھے واپسی کی تجویز سے اختلاف کیا۔ سجاد محمود بٹ بھی خواتین کے ساتھ ہو لیے۔
یہ بھی پڑھیں: رائٹ سائزنگ، نیب نے بڑا فیصلہ کر لیا
قبرستان کی زیارت
جامع مسجد کے قریب صوفی بزرگ سرمد شہید اور ہرے بھرے بزرگ کی قبریں ہیں جن کے قریب ہی کچھ فاصلے پر ایک کھلی جگہ میں کانگرس کے پہلے مسلمان صدر مولانا ابو الکلام آزاد کا مزار ہے۔ یہ مزار بھی …بر مزار ماغریباں نے چراغے نے گلے کی تصویر پیش کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن کسی پر احسان نہیں بلکہ آئینی فریضہ تھا، سلمان اکرم راجہ
اہم معلومات
قریب ہی اخبار بینی میں مصروف ایک صاحب نے ارشاد چودھری کو پوچھنے پر بتایا کہ اس مزار کے آہنی جنگلے کا تالہ ان کی وفات کے دن 22 نومبر کو سال میں ایک دن کھولا جاتا ہے۔ اس دن اگر کوئی آ جائے تو جنگلے کے اندر قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر فاتحہ خوانی کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تہذیب کے بجھتے ہوئے چراغ
تاریخی رہنما
یہ سن کر راقم نے دوستوں سے کہا کہ جن مسلمان رہنماؤں نے تحریک پاکستان اور قائد اعظم کی مخالفت کی تھی اور مولانا آزاد کی طرح اکھنڈ بھارت کی حمایت میں کانگرس کا ساتھ دیا تھا ان کے روحانی اور فکری پیروکاروں کو اس مزار کی حالت زار دیکھ کر عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں زیادتی کا شکار ہونے والی 15 سالہ طالبہ کے ہاں بیٹی کی پیدائش، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا
سرکاری ذمہ داریاں
جہانگیراے جھوجہ نے بھی کہا کہ مولانا آزاد بھی گاندھی، نہرو اور سردار پٹیل کے پائے کے رہنما تھے بلکہ علمیت کے لحاظ سے شاید ان سب سے زیادہ بڑے مرتبے پر فائز تھے۔ ان کی قبر اور اس پارک کو تحریک آزادی کے ہندو رہنماؤں کی یادگاروں جیسی توجہ دینا بھارت سرکار کا فرض بنتا ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








