آذری یوم فتح: پاکستان اور ترکیہ کا ساتھ کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا: صدر آذربائیجان
آذربائیجان کے یوم فتح کی تقریب
باکو(ڈیلی پاکستان آن لائن) آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے یوم فتح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے جس طرح ہمارا ساتھ دیا، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم نے عالمی صورتحال پر پارلیمانی لیڈرز کا اِن کیمرہ اجلاس طلب کرلیا
خصوصی مہمانان کی شرکت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق آذربائیجان کے یوم فتح کی پروقار تقریب میں باکو کی فضا پاکستان کے قومی ترانے سے گونج اٹھی، وزیراعظم شہباز شریف نے خصوصی شرکت کی، پاکستان آرمی کے خصوصی دستے نے بھی پریڈ میں شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: قیصر شریف صدر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور مقرر
ترکیہ کے صدر کی آمد
آذربائیجان کے یوم فتح کی تقریب میں صدر ترکیہ طیب اردوان بھی شریک ہوئے، آذری صدر الہام علیوف نے وزیراعظم شہباز شریف کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی، تقریب میں پاکستان، ترکیے اور آذربائیجان کے قومی ترانے بجائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی بار ایسوسی ایشن نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف قرارداد منظور کی
صدر علیوف کا خطاب
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر الہام علیوف نے کہا کہ تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں، ترکیہ اور پاکستان نے جس طرح ہمارا ساتھ دیا وہ کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا، وزیراعظم شہباز شریف کے آذربائیجان سے اظہار یکجہتی پر مشکور ہوں۔
صدر الہام علیوف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ آذربائیجان کی بھرپور حمایت کی ہے، مشکل وقت میں دوستوں نے جس طرح ساتھ دیا وہ ہمارا اثاثہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں سال 2025 کے دوران دہشت گردی کے 940 واقعات ، 745 دہشت گرد مارے گئے
شوشا شہر کی آزادی
آذربائیجان کے صدر نے کہا کہ شوشا شہر کی آرمینیا سے آزادی ہماری عظیم فتح ہے، آذربائیجان کی افواج نے میدان جنگ میں اپنا لوہا منوایا۔
صدر طیب اردوان کا بیان
اس موقع پر ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے کہا کہ آذربائیجان کے یوم فتح کی 5ویں تقریب میں شرکت پر خوشی ہے، آذربائیجان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی تقریب میں شرکت پر بہت خوشی ہوئی۔
صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ہم نے اتحاد اور یکجہتی سے آگے بڑھتے رہنا ہے، ہم تین ملک ایک خاندان کی مانند ہیں، پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کا اتحاد مزید مضبوط ہوگا، کاراباخ کی فتح سے ناانصافی کے ایک دور کا خاتمہ ہوا، امن معاہدہ آذربائیجان اور آرمینیا کی قیادت کی دانشمندی کا ثبوت ہے۔








