صدر کے بعد وزیر اعظم کو بھی فوجداری مقدمات سے استثنیٰ کی ترمیم پیش کر دی گئی
اسلام آباد میں اہم ترمیم کی پیشکش
صدر مملکت کے بعد وزیر اعظم کو بھی فوجداری مقدمات سے استثنیٰ کی ترمیم پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پیش کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں 13تا 16 اپریل 2025 اوو رسیز پاکستانیز کنونشن منعقد کرنے کی تیاریاں شروع
ترمیم کی تفصیلات
جیونیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ترمیم حکومتی ارکان سینیٹر انوشہ رحمان اور سینیٹر ظاہر خلیل نے مشترکہ طور پر قائمہ کمیٹی میں پیش کی۔ ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 248 میں صدر کے ساتھ لفظ وزیر اعظم بھی شامل کر لیا جائے گا۔ اس ترمیم کی منظوری کے بعد وزیر اعظم کے خلاف بھی دوران مدت فوجداری مقدمات میں کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔
آئینی ترمیم کا عمل
خیال رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کابینہ سے منظوری اور سینیٹ میں پیش کیے جانے کے بعد پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پیش کردی گئی۔ 27ویں آئینی ترمیم پر قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ختم ہوگیا، اور قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل دن 11 بجے دوبارہ ہو گا۔








