گورنر بلوچستان بھی آئینی ترامیم پر بول پڑے
گورنر بلوچستان کی رائے
کوئٹہ (این این آئی) گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک اچھی ترمیم ہے لیکن ہر ترمیم کی بہت سے خوبیوں کے ساتھ ساتھ کچھ خامیاں بھی ہوتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر پائی جانے والی خامیوں کو درست کر لیا جائے تو اس سے سب کو فائدہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سیکرٹری اطلاعات پنجاب کی جانب سے سابق ڈی جی پی آر غلام صغیر شاہد کے اعزاز میں الوداعی تقریب
تعلیمی چالشیں
مثلاً تعلیم کے حوالے سے صوبوں کے استعداد کار بڑھانے سے پہلے ہائیر ایجوکیشن کا صوبوں کو منتقل کرنے کے بڑے نقصانات ہوئے ہیں۔ تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ایک مشترکہ قومی نصاب سے محروم ہوکر چاروں صوبوں میں تعلیمی پالیسیوں اور معیارات میں یکسانیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ فرڈنگ میں کمی کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کیلئے فنڈنگ کم ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے بلوچستان میں بھی پہلی بار یونیورسٹی کے اساتذہ کرام اپنی تنخواہوں کے حصول کیلئے احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ سلسلہ بھی تعلیم کو صوبوں کو منتقلی کے بعد شروع ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کا آئندہ ہفتہ ستاروں کی روشنی میں کیسا گزرے گا؟
ریسرچ فنڈنگ کی کمی
ریسرچ فنڈنگ کی کمی کی وجہ سے نئی ریسرچ اور جدت کی رینکنگ پر منفی اثرات مرتب ہوچکے ہیں۔ اس وقت یونیورسٹیوں کے پاس ریسرچ کیلئے مناسب فنڈز نہیں ہیں۔ صوبے میں بعض لوگ تعلیم کیلئے فنڈز کی فراہمی کو ایسا سمجھتے ہیں جیسے وہ اپنی جیب سے دے رہے ہوں۔ ماضی میں نیشنل ہائی وے اور واپڈا کے ذریعے سڑکوں کی تعمیر معیار کے لحاظ سے بہت بہتر تھی اور کرپشن نہ ہونے کے برابر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ہمایوں سعید نے اپنی ازدواجی زندگی کے دلچسپ اور انوکھے پہلوؤں سے راز اٹھا دیا
بیروزگاری کا مسئلہ
یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو بیروزگاری کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ صوبے میں محدود صنعتی اور زرعی شعبوں کے باعث زیادہ تر نوجوان سرکاری نوکریوں کے حصول پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے سی ایم پنجاب فری سولر پینل سکیم کا باقاعدہ افتتاح کردیا
اقتصادی ترقی کی ضرورت
سردست حکومت لاکھوں بےروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم نہیں کر سکتی کیونکہ اس وقت بھی صوبائی بجٹ کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی تنخواہوں کی طرف جاتا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہمارے پاس ترقیاتی منصوبوں کیلئے کوئی رقم دستیاب نہیں ہوگی۔ موجودہ حکومت معاشی ترقی کو تیز کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں شناختی کارڈ کی بنیاد پر گاڑیوں کی نمبر پلیٹس سے متعلق پراونشل موٹر وہیکل ترمیمی ایکٹ 2024 نافذ
سیاحت کی صلاحیتیں
گورنر مندو خیل نے بلوچستان کی خوبصورت کوسٹل بیلٹ، ڑوب کے سرسبز زیتون کے جنگلات اور زیارت اور ہربوئی جیسے پرکشش مقامات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صوبہ بلوچستان سیاحت کی بےپناہ صلاحیتوں کا حامل ہے۔ سیاحتی مراکز دنیابھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع اور مقامی معیشت کی مضبوطی ممکن ہو سکتی ہے۔
PASCO کا کردار
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ گندم کی خریداری اور انتظام میں پاکستان ایگریکلچر سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (PASCO) کا بہت اہم کردار تھا۔ اس کے خاتمے سے ملک بھر کے زمینداروں پر منفی اثرات پڑے۔ انہوں نے فوڈ سیکورٹی کے استحکام کے حوالے سے PASCO کی اہمیت کو اجاگر کیا۔








