لاہور سے جدہ جانے والے طیارے کی ٹوٹی ونڈ شیلڈ دوسرے طیارے سے نکال کر بدل دی گئی۔
حادثاتی ونڈ شیلڈ کی تبدیلی
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور سے جدہ جانے والے طیارے کی ٹوٹی ونڈ شیلڈ دوسرے طیارے سے نکال کر بدل دی گئی۔ دو روز پہلے ونڈ شیلڈ ٹوٹنے سے گراؤنڈ ہوئے بوئنگ 777 طیارے کی ونڈ شیلڈ بدلنے کے بعد اُسے ہائی سپیڈ ٹیپ لگا کر پرواز کے قابل بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس نے بہت مارا اور کہا منہ بند کرو، جواباً کہا مار دو، جنت میں ہی جاوں گا: کامران قریشی
فلائٹ شیڈول میں خلل
تفصیلات کے مطابق قومی ایئرلائن کی انتظامیہ اور ایئرکرافٹ انجینیئرز کے درمیان تنازع کے باعث فلائٹ شیڈول بری طرح متاثر ہے۔ 6 روز کے دوران درجنوں پروازیں منسوخ اور 125 سے زائد تاخیر کا شکار ہوئی ہیں جس سے مسافر شدید پریشان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: بزرگ شہری کا پورے پاکستان کو مفت بجلی دینے کا دعویٰ، کونسی ٹیکنالوجی استعمال ہوگی؟ دیکھ کر حیران ہوجائیں گے۔
حیران کن واقعہ
’’جنگ‘‘ نے قومی ایئرلائن کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کو 344 مسافروں کو لے کر لاہور سے جدہ جانے والے پی آئی اے کے بوئنگ 777 طیارے کی ونڈ شیلڈ 34 ہزار فٹ کی بلندی پر ٹوٹ گئی تھی۔ اس طیارے کو واپس لا کر کراچی میں لینڈ کروایا گیا، طیارے پر نئی ونڈ شیلڈ کے بجائے پہلے سے گراؤنڈ ایک طیارے سے ونڈ شیلڈ نکال کر لگائی گئی۔ اس ونڈ شیلڈ کو ہائی سپیڈ ٹیپ لگا کر مضبوط کیا گیا اور ہدایت کی گئی ہے کہ 10 دن تک ہر نئی پرواز سے پہلے چیک کیا جائے کہ ٹیپ اُکھڑ تو نہیں گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لارڈز ٹیسٹ کے آخری روز انگلینڈ کا شاندار کم بیک، بھارت جیتا ہوا میچ 22 رنز سے ہار گیا
ٹیکنیکل مسائل
ونڈ شیلڈ کی تبدیلی کے بعد طیارے کو 24 گھنٹے تک گراؤنڈ رکھنا ضروری ہوتا ہے لیکن طیاروں کی شدید کمی کی وجہ سے اس طیارے کو فوری طور پر پرواز بھیج دیا گیا جس کی وجہ سے طیارے کی ونڈ شیلڈ کو ہائی سپیڈ ٹیپ کے ذریعے مضبوط کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امارات میں میڈیا کے لیے نیا نظام متعارف، خلاف ورزی پر 20 لاکھ درہم تک جرمانہ
سپیئر پارٹس کی کمی
ذرائع کا بتانا ہے کہ 4 سال سے طیاروں کے لیے ونڈ شیلڈ خریدی ہی نہیں گئیں، طیاروں کے لیے سپیئر پارٹس کی عدم دستیابی اور سپلائی چین کے ناقص انتظامات کی وجہ سے قومی ایئرلائن کے 32 میں سے صرف 14 طیارے ہی پرواز کے قابل ہیں۔
انجینیئرز کا مطالبہ
ائیر کرافٹ انجینئرز کا ایک اہم مطالبہ طیاروں کے لیے سپیئر پارٹس کی بروقت فراہمی بھی ہے اور وہ 8 سال سے منجمد تنخواہوں میں اضافے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔








