پارلیمنٹ کی قانون و انصاف کمیٹی کا مشترکہ اجلاس، خیبرپختونخوا کا نام تبدیل کرنے سمیت مزید 3 ترامیم پیش
اجلاس کی تفصیلات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پارلیمنٹ کی قانون و انصاف کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے مزید 3 ترامیم پیش کی گئیں، اے این پی، بی این پی اور ایم کیو ایم نے ترامیم پیش کیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آر رحمان اور اہلیہ سائرہ بانو کی 29 سال بعد علیحدگی: ’ٹوٹے ہوئے دلوں کے بوجھ سے خدا کا تخت بھی کانپ سکتا ہے‘
آئینی عدالتوں کا قیام
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز ذرائع کے مطابق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آئینی عدالتوں کے قیام کی شق منظور کر لی، زیر التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی ترمیم منظور کر لی گئی۔ منظور کی گئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ ایک سال تک مقدمہ کی پیروی نہ ہونے پر اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چارسدہ کی تحصیل شبقدر میں دیرینہ دشمنی پر مخالفین نے 2 چچازاد بھائیوں کو قتل کردیا
خیبرپختونخوا کا نام تبدیل کرنے کی تجویز
اے این پی نے خیبرپختونخوا کا نام تبدیل کرنے کی ترمیم پیش کی، خیبرپختونخوا سے نام خیبر ہٹا کر پختونخوا رکھنے کی ترمیم پیش کی گئی۔ اے این پی کا موقف ہے کہ خیبر ضلع ہے، صوبوں میں نام کے ساتھ ضلع نہیں لکھا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان دشمنی کی پالیسی ناکام ہوگئی، ششی تھرور کا اعتراف
آرٹیکل 243 اور 200 کی مشاورت
ذرائع کے مطابق آرٹیکل 243 اور آرٹیکل 200 سے متعلق مشاورت جاری ہے۔ ایم کیو ایم کی بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز سے متعلق ترمیم پر اتفاق ہو گیا ہے۔
بلوچستان اسمبلی کی نشستیں
ذرائع کے مطابق بلوچستان اسمبلی کی نشستیں بڑھانے پر اتفاق ہو گیا، کتنی نشستیں بڑھائی جائیں گی اس پر بات ہونا باقی ہے۔








