افغان حکومت نے دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی، دفتر خارجہ
پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) دفتر خارجہ نے استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد اپنے ردِعمل میں واضح کیا ہے کہ طے شدہ مدت گزر جانے کے باوجود افغان حکومت نے دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک دوران کام جان بحق ہونے والے پاکستانیوں کے ورثاء کو ایک کروڑ روپیہ نقد دینے کی قرار داد عشایئہ تقریب میں منظور
تیسرے دور کی تفصیلات
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق مذاکرات کا تیسرا دور 7 نومبر کو استنبول میں اختتام پذیر ہوا۔ پاکستان نے ترکیہ اور قطر کی مخلصانہ ثالثی اور مثبت کردار کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کا ویزا اپلائی کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
دہشت گردی کے حملے
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران افغان سرزمین سے پاکستان پر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان نے ہر موقع پر غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم امن وامان برباد نہیں ہونے دیں گے: وزیرداخلہ محسن نقوی
تجارتی اور انسانی تجاویز
ترجمان کے مطابق پاکستان نے افغان فریق کو متعدد تجارتی اور انسانی بنیادوں پر مثبت تجاویز پیش کیں، تاہم عملی جواب نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ثانیہ مرزا کا کیرئیر کے عروج پر ذاتی زندگی کے سبب ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا انکشاف
طالبان حکومت کی پالیسی
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ طالبان حکومت دہشتگرد عناصر کو پناہ دے کر ان کی سرگرمیوں کو تقویت دے رہی ہے، اور اس مسئلے کو انسانی ہمدردی کا معاملہ قرار دینا حقیقت سے انحراف ہے۔ پاکستان نے بارہا دہشتگردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا، مگر افغان حکام نے یا تو خاموشی اختیار کی یا غلط بیانی سے کام لیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلوبل مارچ ٹو غزہ : مصر میں نیلسن منڈیلا کے نواسے کا پاسپورٹ ضبط
غیر متعلقہ موضوعات کا ذکر
ترجمان کے مطابق افغان وفد نے مذاکرات میں غیر متعلقہ موضوعات اٹھا کر اصل مسئلے کو پسِ منظر میں دھکیلنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: مصباح کی جگہ اظہر محمود کو کوچ کیوں بنایا گیا؟ باسط علی نے راز فاش کردیا۔
مؤدبانہ مذاکرات کی حمایت
دفتر خارجہ نے مؤدبانہ مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عملی اور تصدیق شدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
پاکستان کا ردعمل
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، اور دہشتگرد عناصر یا ان کے معاونین کو دوست کے بجائے دشمن سمجھا جائے گا。








