اگلا اسٹیشن علی گڑھ تھا، دہلی میں ایک ہی آدمی کام کا ملا وہ بھی ہاتھ سے گیا، آنکھوں میں خوفزدگی، چہروں پر شرمندگی اور ہونٹوں پر کھسیانی ہنسی پھیلی تھی۔
مصنف کا تعارف
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 213
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپورٹس بورڈ کا انڈر 16 والی بال ٹیم کے لیے 82 لاکھ روپے انعام کا اعلان
دوستوں کی پریشانی
یہ سب کچھ سن کر پاکستانی وفد کے دوستوں کی جان میں جان آئی لیکن آفتاب میاں کی ٹرین چھوٹ جانے پر ظفر علی راجا اور سرفراز سید جیسے دوستوں نے فکرمندی سے کہا کہ دہلی میں ایک ہی آدمی کام کا ملا تھا وہ بھی ہاتھ سے گیا۔ میں نے دوستوں کو اگلی بات بتائی کہ آفتاب میاں 2 گھنٹے بعد ایک دوسری ٹرین میں سوار ہو کر ہمیں کانپور میں اگلی صبح تک آن ملیں گے تو انہوں نے اطمینان کا سانس لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں چانکیہ نے سیاست میں عیاری، مکاری اور وعدہ خلافی کو جائز قرار دیا تھا، یہ وہ ہتھیار ہیں جو آج دنیا بھر میں استعمال کیے جا رہے ہیں
گم شدہ ساتھیوں کی واپسی
اگلے سٹیشن پر ہمارے ڈبے سے مسافروں کے اترنے کا مرحلہ تمام ہوا تو جو پہلے 4 مسافر اندر داخل ہوئے وہ ہمارے گم شدہ ساتھی تھے۔ ان سب کی آنکھوں میں خوفزدگی، چہروں پر شرمندگی اور ہونٹوں پر کھسیانی ہنسی پھیلی ہوئی تھی۔ سجاد محمود بٹ جو اب تک مجرموں کی طرح کھڑے تھے، اعتراف جرم کرتے ہوئے بولے: "میں پنجاب بھون اور پھر دہلی ریلوے سٹیشن پر دیر سے پہنچنے کی کوتاہی تسلیم کرتا ہوں اور اپنی اور خواتین کی جانب سے معافی مانگتا ہوں اور 4 دفعہ سوری، سوری، سوری اور سوری کرتا ہوں۔" دوستوں نے ایک سخت وارننگ کے ساتھ سجاد بٹ کا سوری نامہ قبول کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ بدھ کو ایران کا دورہ کریں گے
علی گڑھ کا تاریخی پس منظر
اگلا سٹیشن علی گڑھ تھا۔ علی گڑھ یونیورسٹی نے برصغیر کے مسلمانوں کی علمی و سیاسی بیداری اور تحریک پاکستان میں ناقابلِ فراموش اور تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ علی گڑھ میں ریل سے اترنا اور سرسید احمد خاں کے شہرکی سیر کرنا تو ہماری قسمت میں نہیں تھا لیکن ریلوے سٹیشن پر اتر کر سپنوں کے اس شہر کی چند منٹ تک قدم بوسی کا شرف حاصل کرنے میں ہم کامیاب رہے۔ ظفر علی راجا نے ہمیں بتایا کہ مولانا ظفر علی خاں کے ایک قریبی ساتھی حکیم عنایت اللہ نسیم سے ان کو ملاقات کا شرف حاصل رہا ہے۔ آپ بھی علی گڑھ کے تعلیم یافتہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسسٹنٹ کمشنر جلالپور پیروالا ذوالفقار علی خان کو ناقص کارکردگی پر عہدے سے ہٹایا گیا
حکیم راحت نسیم کی تخلیق
ان کے صاحبزادے اور ہمارے دوست حکیم راحت نسیم سوہدروی نے 2005ء میں علی گڑھ کا دورہ کیا تھا۔ ان کی کتاب "تاج محل کے دیس میں" مسلم یونیورسٹی کے احوال بڑے معلوماتی انداز میں پیش کرتی ہے۔ حکیم راحت نسیم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی عظیم تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نظم بھی تخلیق کی تھی۔ جس کا ایک شعر درج ذیل ہے:
تیری دانش گاہ نے پیدا کئے ایسے سپوت
کارناموں سے عیاں ہے جن کی عظمت کا ثبوت
یہ بھی پڑھیں: حکومت کی بہترین حکمت عملی سے مظاہرین منتشر ہوئے، احتجاج پی ٹی آئی کا ایک اور بلنڈر ہے: طلال چوہدری
کانپور میں سفر
ہماری بوگی میں ایک نستعلیق قسم کے کالج پروفیسر گوپال مٹھن جن کا تعلق بھی کانپور سے تھا سفر کر رہے تھے۔ راقم اور ظفر علی راجا تھوڑی سی جگہ بنا کر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے اور ان سے کانپور شہر کے بارے میں جاننے کے لیے گفتگو شروع کی۔ انہوں نے نہایت محبت سے اس شہر کے بارے میں بتایا کہ کانپور بھارت کا پانچواں بڑا شہر ہے اور یہ دہلی سے 408 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
کانپور کی تاریخ اور صنعتیں
یہ شہر دیش کے قدیم شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ ہندوؤں کے اوتار رام کنہیا نے اسی علاقے میں جنم لیا تھا۔ اس شہر کا پرانا نام کنہیاپور تھا۔ پھر کثرت استعمال سے اس کا نام کانہا پور اور پھر کانپور ہو گیا۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے حوالے سے اس شہر کا نام ان اولین شہروں میں آتا ہے جہاں انگریز حکومت کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کیا گیا تھا۔ یہاں چمڑے اور کپڑے کی مصنوعات تیار کرنے کے متعدد کارخانے ہیں۔ ان دونوں صنعتوں میں کانپور کو وہ شہرت حاصل ہوئی کہ اسے چمڑے کی مصنوعات کے حوالے سے "لیدر سٹی آف دی ورلڈ" اور کپڑے کے حوالے سے "مانچسٹر آف دی ایسٹرن ورلڈ" کے نام سے کہا جانے لگا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








