مساجد میں کتوں باندھنے کا الزام، سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا مقدمہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ریاستی اداروں کے خلاف بیان پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر اسلام آباد میں درج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دریا کنارے 10 طاقتور شخصیات کے ریزورٹ بچانے کے لیے پوری پوری بستیاں اجاڑ دی گئیں: مصدق ملک
مقدمہ کی وجوہات
این سی سی آئی اے میں شہری کی شکایت پر سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا جس میں سہیل آفریدی پر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت، گمراہ کن معلومات، جھوٹے اور بے بنیاد بیانات پر مبنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم کی افواہیں،”اسی دن ہمیں پتہ چلے گا جب رات کو 12بجے اٹھا کر میاں صاحب کو اسمبلی پہنچادیاجائے گا:اطہر کاظمی
ایف آئی آر کی تفصیلات
ایف آئی آر کے متن کے مطابق سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں ریاست اور قومی سلامتی کے اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے نے اڈیالہ جیل کے باہر ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹ پر مبنی میڈیا ٹاک کی۔ پی ٹی آئی کے آفیشل پیچ سے بھی ریاستی اداروں کے خلاف ویڈیو کو پھیلایا گیا۔
سہیل آفریدی کا متنازع بیان
واضح رہے کہ سہیل آفریدی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ مساجد میں کتے باندھتے تھے۔ ان کے خلاف اسی بیان کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے。








