طالبان کے خلاف بھرپور اور مسلسل فوجی کارروائی ہی مسئلے کا حل ہے، دفاعی تجزیہ کار فاران جعفری

پاکستان پر بڑھتے ہوئے خطرات

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) دفاعی تجزیہ کار فاران جعفری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اب ایسے شدت پسند گروہ سرگرم ہیں جو پاکستان پر حملے کر رہے ہیں اور خود کو فلسطینی مقصد کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ ان میں ایک گروہ "حزب گلبدین گروپ" کی ایک شاخ بھی شامل ہے جس نے اب خود کو القدس کی محافظ فوج کا نام دیا ہے۔ جعفری کے مطابق یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ طالبان حکومت کی پاکستان کے خلاف ایک بڑی نفسیاتی جنگ اور گیس لائٹنگ حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوجوان کرکٹر میچ کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا

طالبان کی بیانیے کی جنگ

ایکس پر اپنی طویل پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ طالبان بخوبی جانتے ہیں کہ فوجی طاقت کے لحاظ سے ان کی کمزوری کہاں ہے اور پاکستان کو کہاں برتری حاصل ہے۔ لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان کے مقابلے میں انہیں بیانیے کی جنگ میں برتری حاصل ہے، اور وہ اسی پہلو کو استعمال کر کے پاکستان پر نفسیاتی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: روپیہ مستحکم، انٹربینک میں ڈالر مزید سستا ہوگیا

پاکستانی جذبات اور طالبان

فاران جعفری کے مطابق طالبان یہ حقیقت بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو تاریخی طور پر طالبان کو "بہتر مسلمان" سمجھتی آئی ہے۔ ان کے خیال میں اس سوچ کے حامل افراد صرف مذہبی جماعتوں تک محدود نہیں بلکہ عام پاکستانیوں میں بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں دہائیوں تک پالیسی سازوں نے اسی سوچ پر قائم رکھا اور طالبان انہی جذبات پر انحصار کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ن لیگ کی کچھ سیاسی خواتین نے بالکل مریم نواز کے انداز میں تیار ہونا شروع کردیا: کامران احسن

سرحد پار سے خطرات

انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات طالبان کے حق میں جاتے ہیں، کیونکہ ان سے پاکستان کسی بڑی فوجی کارروائی سے رُک جاتا ہے، جبکہ طالبان اپنی پناہ گاہوں میں محفوظ رہتے ہوئے پاکستان کے اندر شورش جاری رکھ سکتے ہیں۔ پاکستان اپنے ملک کے اندر درجنوں جنگجوؤں کو مار بھی دیتا ہے، مگر سرحد پار سے مزید شدت پسند داخل ہوتے رہتے ہیں، اور ایک چھوٹی تعداد ایسے پاکستانیوں کی بھی ہے جو ان کی مدد کرتے ہیں یا ان کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل یوتھ ہب – نوجوانوں کے لیے ایک اور انقلابی قدم!

طالبان کی طاقت

فاران جعفری کا کہنا تھا کہ طالبان اب پورے خطے میں "جہادی نظام" کے سرغنہ بن چکے ہیں اور ان کے پاس جنگجوؤں کی کوئی کمی نہیں۔ ان کے پاس ایسے خودکش حملہ آوروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی جان دینے کو تیار ہیں۔ اسی لیے طالبان کے لیے مذاکرات فائدہ مند ہیں، لیکن جو چیز انہیں خوفزدہ کرتی ہے وہ پاکستان کی طویل المدتی اور مربوط فوجی کارروائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غیرملکی اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کیخلاف درخواست 20ہزار جرمانے کیساتھ خارج

مذاکرات کی ضرورت

انہوں نے کہا کہ طالبان نے جب محسوس کیا کہ پاکستان کسی ممکنہ قیادت کو ختم کرنے والی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، تو وہ فوراً قطر بھاگے اور قطریوں کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ فوجی کارروائی روک دے اور دوبارہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

جنگ کی حکمت عملی

فاران جعفری نے واضح کیا کہ پاکستان کو یاد رکھنا چاہیے کہ جنگ ہمیشہ دشمن کی شرائط پر نہیں لڑی جاتی، بلکہ اپنی شرائط پر اور اپنے مضبوط محاذ پر لڑی جاتی ہے۔ اس وقت پاکستان طالبان کے بیانیے کا مقابلہ کرنے میں حد سے زیادہ مصروف ہے، جبکہ اصل توجہ مستقل فوجی کارروائی پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق طالبان کو بیانیے کی جنگ میں شکست دینا پاکستان کے لیے ممکن نہیں، لہٰذا پاکستان کو اپنی توجہ اس میدان پر مرکوز کرنی چاہیے جہاں اسے برتری حاصل ہے، یعنی طالبان کے خلاف بھرپور اور مسلسل فوجی کارروائی، اور طویل مدت میں ان کے نظام یا حکومت کی تبدیلی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...