پاکستان کی جانب سے افغانستان بارڈرز کی بندش سے کتنے کروڑ ڈالرز کا نقصان ہوا؟
افغانستان کے ساتھ بارڈر کراسنگ پوائنٹس کی بندش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ بارڈر کراسنگ پوائنٹس کی بندش سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
یہ بھی پڑھیں: منشیات سمگلنگ، امریکی عدالت نے پاکستانی تاجر کو 16 برس کی سزا سنا دی
بارڈر کی بندش کی مدت
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باعث بند کیے جانے والے کراسنگ پوائنٹس کو تقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جوہری تنصیبات سے متعلق ہزاروں حساس دستاویزات ایران کے ہاتھ لگ گئیں
اقتصادی اثرات
پاک افغان سرحد کی بندش سے وسط ایشیائی ممالک کو پاکستانی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ تمام 8 بارڈر کراسنگ پوائنٹس بند ہونے کے باعث ایک ہزار ٹرک کراچی پورٹ پر پھنس گئے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا اختتام بانی ایم کیو ایم جیسا ہوگا، فیصل واوڈا
تجارتی خسارہ
حکومتی ذرائع کے مطابق عام طور پر پاکستان سے افغانستان ماہانہ تقریباً 15 کروڑ ڈالرز کی درآمدات کرتا ہے۔ افغانستان عام طور پر پاکستان کو ماہانہ تقریباً 6 کروڑ ڈالرز کی برآمدات کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سولرنیٹ میٹرنگ صارفین سے بجلی کم قیمت میں خریدنے سے متعلق تاحال فیصلہ نہیں ہوسکا
ورکرز اور زراعت پر اثرات
بارڈر کراسنگ پوائنٹس کی بندش سے 20 سے 25 ہزار ورکرز متاثر ہوئے اور افغانستان میں زرعی مصنوعات کی قیمتیں گر گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں اختلافات میں دن بدن اضافہ، عمران خان سے ملنے کی دیر ہے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا: شیر افضل مروت
زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی
افغانی انگور کا 10 کلو گرام کا پیکٹ پاکستانی 4500 روپے میں فروخت ہوتا تھا جس کی قیمت گر کر 120 سے 140 روپے پر آ گئی ہے۔ اس بندش سے افغانستان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
نقصانات کا تخمینہ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کراسنگ پوائنٹس کی بندش کے ابتدائی 24 روز میں تقریباً 20 کروڑ ڈالرز نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے.








