پاکستان کی جانب سے افغانستان بارڈرز کی بندش سے کتنے کروڑ ڈالرز کا نقصان ہوا؟
افغانستان کے ساتھ بارڈر کراسنگ پوائنٹس کی بندش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ بارڈر کراسنگ پوائنٹس کی بندش سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات میں پیکا ایکٹ کے تحت 372 غیر قانونی مقدمات درج ہونے کا انکشاف
بارڈر کی بندش کی مدت
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باعث بند کیے جانے والے کراسنگ پوائنٹس کو تقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے زرعی انکم ٹیکس سے متعلق آرڈیننس جاری کردیا
اقتصادی اثرات
پاک افغان سرحد کی بندش سے وسط ایشیائی ممالک کو پاکستانی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ تمام 8 بارڈر کراسنگ پوائنٹس بند ہونے کے باعث ایک ہزار ٹرک کراچی پورٹ پر پھنس گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ہر چیز تباہ ہوگئی، کوئی بھی ملک ساتھ دینے کو تیار نہیں، اسرائیل کے لیے کچھ کرو۔۔۔ اسرائیل کے 2 میئرز کھل کر بول پڑے، حقیقت میڈیا پر آ کر بتا دی
تجارتی خسارہ
حکومتی ذرائع کے مطابق عام طور پر پاکستان سے افغانستان ماہانہ تقریباً 15 کروڑ ڈالرز کی درآمدات کرتا ہے۔ افغانستان عام طور پر پاکستان کو ماہانہ تقریباً 6 کروڑ ڈالرز کی برآمدات کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرگڑھ میں نرس سے زیادتی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار
ورکرز اور زراعت پر اثرات
بارڈر کراسنگ پوائنٹس کی بندش سے 20 سے 25 ہزار ورکرز متاثر ہوئے اور افغانستان میں زرعی مصنوعات کی قیمتیں گر گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے نہیں پتہ کس کو کتنا نقصان ہوا، یہ صرف اسلام آباد کے ڈرائنگ رومزکی گفتگو تھی، مفتاح اسماعیل کی وضاحت
زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی
افغانی انگور کا 10 کلو گرام کا پیکٹ پاکستانی 4500 روپے میں فروخت ہوتا تھا جس کی قیمت گر کر 120 سے 140 روپے پر آ گئی ہے۔ اس بندش سے افغانستان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
نقصانات کا تخمینہ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کراسنگ پوائنٹس کی بندش کے ابتدائی 24 روز میں تقریباً 20 کروڑ ڈالرز نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے.








