پاکستان کی جانب سے افغانستان بارڈرز کی بندش سے کتنے کروڑ ڈالرز کا نقصان ہوا؟
افغانستان کے ساتھ بارڈر کراسنگ پوائنٹس کی بندش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ بارڈر کراسنگ پوائنٹس کی بندش سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
یہ بھی پڑھیں: فوجی تنصیب پر حملے کے الزام کا کیس فوجی جج کیسے سن سکتا ہے؟ سردار لطیف کھوسہ
بارڈر کی بندش کی مدت
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باعث بند کیے جانے والے کراسنگ پوائنٹس کو تقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے ڈبلیو ٹی او کی چودھویں وزارتی کانفرنس میں حاصل ہونیوالی پیش رفت پر تفصیلات شیئر کر دیں
اقتصادی اثرات
پاک افغان سرحد کی بندش سے وسط ایشیائی ممالک کو پاکستانی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ تمام 8 بارڈر کراسنگ پوائنٹس بند ہونے کے باعث ایک ہزار ٹرک کراچی پورٹ پر پھنس گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف آئندہ ہفتے 3 روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہوں گے
تجارتی خسارہ
حکومتی ذرائع کے مطابق عام طور پر پاکستان سے افغانستان ماہانہ تقریباً 15 کروڑ ڈالرز کی درآمدات کرتا ہے۔ افغانستان عام طور پر پاکستان کو ماہانہ تقریباً 6 کروڑ ڈالرز کی برآمدات کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ مشق ’’انسپائرڈ گمبٹ‘‘ کو دفاعی تعلقات میں نئی جہت قرار دیدیا
ورکرز اور زراعت پر اثرات
بارڈر کراسنگ پوائنٹس کی بندش سے 20 سے 25 ہزار ورکرز متاثر ہوئے اور افغانستان میں زرعی مصنوعات کی قیمتیں گر گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہالی ووڈ کے معروف اداکار ڈوین جانسن ’’دی راک‘‘ کی مبینہ افطار تقریب میں شرکت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی
افغانی انگور کا 10 کلو گرام کا پیکٹ پاکستانی 4500 روپے میں فروخت ہوتا تھا جس کی قیمت گر کر 120 سے 140 روپے پر آ گئی ہے۔ اس بندش سے افغانستان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
نقصانات کا تخمینہ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کراسنگ پوائنٹس کی بندش کے ابتدائی 24 روز میں تقریباً 20 کروڑ ڈالرز نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے.








