27 ویں ترمیم سینیٹ سے منظور کرانے کی حکمت عملی فائنل، اتحادی جماعتوں سے ساتھ دینے کا وعدہ لے لیا گیا

حکومت کی 27 ویں ترمیم کی حکمت عملی

اسلام آباد (علی اختر): حکومت نے 27 ویں ترمیم سینیٹ سے منظور کرانے کی حکمت عملی فائنل کر لی ہے، اور اتحادی جماعتوں سے ساتھ دینے کا وعدہ لے لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پختونخوا کے عوام کی اکثریت احتجاج کیخلاف، 53 فیصد نے کسی بھی احتجاج میں جانے سے انکار کیا: سروے

آئینی ترمیم کے لیے درکار ووٹس

تفصیل کے مطابق، اس وقت آئینی ترمیم کے لیے سینیٹ سے 64 ارکان کے ووٹ درکار ہیں۔ سینیٹ میں اپوزیشن بینچز پر 30 ارکان موجود ہیں جو لازمی طور پر آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے۔ سینیٹ پارٹی پوزیشن کے مطابق، حکومتی بینچز پر پیپلزپارٹی 26 سینٹرز کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کے 20، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 ارکان، ایم کیو ایم پاکستان کے 3، نیشنل پارٹی کا ایک اور پاکستان مسلم لیگ ق کا بھی ایک سینیٹر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سابق صدر پاکستان عارف علوی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست خارج

آزاد سینیٹرز اور حکومت کی حمایت

اس کے علاوہ، حکومتی بینچز پر 3 آزاد سینیٹرز ہیں جن میں سینیٹر عبدالکریم، سینیٹر عبدالقادر اور محسن نقوی شامل ہیں۔ تین سینیٹرز انوار الحق کاکڑ، اسد قاسم اور سینیٹر فیصل واوڈا نہ حکومتی اور نہ ہی اپوزیشن بینچز پر بیٹھتے ہیں۔ یہ تینوں سینیٹرز حکومت کو ووٹ دیتے ہیں، اس طرح سینیٹ میں حکومت کو 67 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مولانا فضل الرحمان بھی مشروط حمایت پر تیار ہو جائیں گے، نہ بھی ہوئے تو حکومت کے پاس نمبر پورے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 37087 مجالس، 9825 جلوسوں کی مانیٹرنگ، 1421 ذاکرین و مقررین کی ضلع بندی، 809 کی زباں بندی کے احکامات جاری

کمیٹیوں کے اجلاس اور تجویز کردہ ترامیم

27 ویں آئینی ترمیم پر غور کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹیوں کے اجلاس کے دوران مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری سمیت مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27 ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ ڈرافٹ کو منظور کر لیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 243 پر تفصیلی مشاورت کے بعد منظوری دی گئی۔ اضافی ترامیم پر آج حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا۔

مزید تبدیلیوں کی تجاویز

ذرائع کے مطابق، خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کرنے اور بلوچستان میں اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کی تجویز پر حکومت نے وقت مانگ لیا ہے۔ آئینی عدالتوں کے قیام اور زیرِ التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر 1 سال کرنے کی ترمیم بھی منظور کر لی گئی ہے، جبکہ ایم کیو ایم کی بلدیاتی نمائندوں کو فنڈ دینے سے متعلق ترمیم پر اتفاق ہو گیا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ سینیٹ آج ترمیمی بل کی منظوری دے دے گی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...