۲۷ویں آئینی ترمیم پر سینئرز وکلاء اور ریٹائرڈ ججز کا چیف جسٹس پاکستان کو خط، اہم مطالبہ کر دیا
اسلام آباد میں آئینی ترمیم کا معاملہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ستائیسیویں آئینی ترمیم کے معاملے پر سینیئر وکلا اور ریٹائرڈ ججز نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ دیا۔ خط میں چیف جسٹس سے فل کورٹ میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جب اللہ نے پہلے ہی انسان کی تقدیر لکھ دی، تو انسان کے اختیار کی حقیقت کیا ہے؟ یشما گل کا ڈاکٹر ذاکر نائیک سے سوال
خط پر دستخط کرنے والے افراد
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق خط پر جسٹس (ر) مشیر عالم، مخدوم علی خان، منیر اے ملک، عابد زبیری، جسٹس (ر) ندیم اختر، اکرم شیخ، انور منصور، علی احمد کرد، خواجہ احمد حسین اور صلاح الدین احمد کے دستخط شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عرب ٹی وی کے پروگرام میں سینیٹر مشاہد حسین اور اسرائیلی قومی سلامتی کے سابق مشیر میں بحث ہو گئی
سپریم کورٹ کی اہمیت
سینیئر وکلا اور ریٹائرڈ ججز نے خط میں کہا ہے کہ بطور سپریم کورٹ ترمیم پر ردعمل دیا جائے، سپریم کورٹ ترمیم پر اپنا اِن پٹ دینے کا اختیار رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا، بھارت میں موجود پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم
خطرات کا سامنا
خط کے متن کے مطابق ہم غیر معمولی حالات میں یہ خط لکھ رہے ہیں، سپریم کورٹ اپنے قیام کے بعد آج سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہے، کوئی سول یا فوجی حکومت سپریم کورٹ کو اپنا ماتحت ادارہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
ماضی کے مشاہدات
خط میں لکھا ہے کہ ماضی میں ایسی کوئی کوشش بھی نہیں ہوئی، اگر آپ متفق ہیں یہ پہلی کوشش ہے تو رد عمل دینا سپریم کورٹ کا حق ہے۔








