ہماری 2018 سینیٹ الیکشن میں شناخت چھین لی گئی تھی، ہم کسی کے پاس شکایت لے کر نہیں گئے اور نہ روئے، لیگی سینیٹر آغا شاہزیب درانی
سینیٹر آغا شاہزیب درانی کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کے سینیٹر آغا شاہزیب درانی نے کہا ہے کہ ہماری 2018 سینیٹ الیکشن میں شناخت چھین لی گئی تھی، ہم کسی کے پاس شکایت لے کر نہیں گئے اور نہ روئے۔
یہ بھی پڑھیں: حمزہ شہباز کا رمضان شوگر مل ریفرنس میں عدالت پیش نہ ہونے کا فیصلہ
پارٹی کے اندر سیاسی مسائل
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق پریزائیڈنگ افسر منظور کاکڑ کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے آغا شاہزیب درانی نے کہا کہ انہیں کس نے انٹرا پارٹی الیکشن سے روکا تھا؟ یہ پڑھی لکھی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، برداشت کا مادہ نہیں، آپ کا نشان گیا تھا، آپ نے اپنی شناخت کیوں کھو دی؟ یہ ایک ہی ظلم و زیادتی کی بات کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنگل میں کھڑی لاوارث کار سے 52 کلو سونا اور 10 کروڑ روپے برآمد
ملک کی سیاست پر تنقید
لیگی سینیٹر نے کہا کہ مشرف کو کس نے ووٹ دیا؟ بانی پی ٹی آئی پولنگ ایجنٹ تھے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھے سو ممبر دے دیں، میں وزیراعظم بنوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں آر ٹی ایس کس نے بٹھایا تھا؟ کس نے جلسے میں کہا تھا کہ آرمی چیف قوم کا باپ ہے؟
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں دوست نے بے وفائی پر خاتون کو آگ لگا کر مار ڈالا
جمہوریت کی صورتحال
آغا شاہزیب درانی نے کہاکہ 52 منٹ میں 52 بل اسی ایوان سے پاس ہوئے، اس وقت جمہوریت کہاں تھی؟ انہوں نے پریذیڈنٹ ہاؤس کو آرڈیننس فیکٹری بنا دیا تھا۔ مجرم سیاسی اسیر نہیں ہوتا، منی لانڈرنگ کرنے والا سیاسی اسیر نہیں ہوتا، رانا ثنا اللہ کیلئے آرڈر تھا کہ چینی گرائیں تاکہ کیڑے مکوڑے تنگ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطین کے مسئلے پر کبھی بھی عرب بادشاہوں کی پالیسی پر اعتماد نہ کرنا، حامد میر نے علامہ اقبال کی نصحیت یاد دلا دی
اپوزیشن کے مطالبات
ان کا کہنا تھا کہ کون سا اسیر ہے جسے 8 کمرے دیے جاتے ہیں، دیسی مرغی اور شہد دیا جاتا ہے؟ اپوزیشن والے اپنی ترامیم لاتے، کمیٹی میں جاتے، یہ ہمیں بتاتے کہ اس آئینی ترمیم میں مسئلہ کیا ہے۔ لیگی سینیٹر نے کہا کہ کہتے ہیں آئینی کورٹ کیوں بننی چاہئے، سپریم کورٹ میں 50 ہزار کیسز زیرالتوا ہیں، وہ کیسے ختم کیے جائیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی، اٹلی اور اسپین بھی آئینی عدالت ہیں، آئینی عدالت سے کیا مسئلہ ہے وہ تو بیان کریں۔
انتخابی نشان کا معاملہ
ان کا انتخابی نشان جس قانون کے تحت چھینا گیا وہ آپ کے لیڈر نے بنایا تھا، آپ نے خود گڑھا کھودا جس میں گر گئے۔








