آرٹیکل 243 کی 2 شقوں 4 اور 7 میں نئی ترامیم کے بعد فیلڈ مارشل کو قانونی استثنیٰ حاصل، وردی اور مراعات تاحیات ہوں گی
سینیٹ کی جانب سے 27ویں ترمیم کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ نے 27ویں ترمیم کی منظوری دے دی، جس کے تحت آئین کے آرٹیکل 243 کی دو شقوں 4 اور 7 میں نئی ترامیم کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شادی میں بلا کر تین افراد نے مقامی فنکارہ کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا
آرٹیکل 243 کی ترمیم
ایکسپریس نیوز کے مطابق آرٹیکل 243 کی شق 4 اور 7 میں ترمیم کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے کا نام تبدیل کر کے کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر میں “چیف منسٹر انسولین” پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ، لاہور سمیت 3 اضلاع میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جائے گا
کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی
ترمیم کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کے تجویز پر ایئر چیف اور نیول چیف کی طرح کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کا تقرر کریں گے جبکہ جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کا انڈونیشیا کا دورہ، صدر اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں
نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا تقرر
اس کے علاوہ وزیر اعظم آرمی چیف کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا تقرر کریں گے، اور یہ پاکستان آرمی کے ارکان میں سے ہوگا جس کی تنخواہ اور الاؤنسز مقرر کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ ہفتے کچرا اٹھانے کے بل بھیجے جائیں گے، ترجمان ایل ڈبلیو ایم سی
فوجی افسران کی ترقی اور مراعات
وفاقی حکومت فوجی افسر فیلڈ مارشل، ایئر مارشل یا ایڈمرل چیف کو رینک پر ترقی دے دی، جس کے بعد وردی اور مراعات تاحیات رہیں گی جبکہ فیلڈ مارشل، ایئر مارشل اور ایڈمرل چیف کو بطور قومی ہیروز تصور کیا جائے گا، اور تینوں کو آرٹیکل 47 کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکے گا۔
ذمہ داریاں اور قانونی استثنیٰ
ترمیم کے مطابق وفاقی حکومت فیلڈ مارشل، ایئر مارشل اور ایڈمرل چیف کی ذمہ داریوں اور امور کا تعین کرے گی، جبکہ فیلڈ مارشل کو آرٹیکل 248 کے تحت قانونی استثنیٰ حاصل ہوگا۔








